واہ کینٹ ، دو روزہ علمی، فکری اور تربیتی سیمینار و مقابلہ جات کا انعقاد
کردار، اخلاق اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی تربیت ناگزیر ہے،ڈاکٹر حاشر زبیری
واہ کینٹ (شاہ رخ/تحصیل رپورٹر)شعبہ علومِ اسلامیہ، یونیورسٹی آف واہ کے زیرِ اہتمام عشرۂ رحمت للعالمین ﷺ کی مناسبت سے دو روزہ علمی، فکری اور تربیتی سیمینار و مقابلہ جات کا انعقاد کیا گیا، جس میں واہ کینٹ کے مختلف کالجز اور مدارس کے طلبہ، یونیورسٹی کے اساتذہ، علماء کرام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔دو روزہ پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوا، جس کے بعد پروفیسر ڈاکٹر محمد رضوان، ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز اینڈ ہیومینٹیز، یونیورسٹی آف واہ نے استقبالیہ کلمات پیش کیے۔ انہوں نے شرکائے تقریب کو خوش آمدید کہتے ہوئے سیرتِ رسول اکرم ﷺ کے مطالعے اور اس کی تعلیمات کو عملی زندگی میں اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔سیمینار کا مرکزی موضوع ’’نسلِ نو کا تحفظ، تعمیر اور کردار، سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں‘‘ تھا۔ مقررین نے اس امر کو اجاگر کیا کہ موجودہ دور میں نوجوان نسل کو درپیش فکری، اخلاقی اور معاشرتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیرتِ طیبہ ﷺ سے رہنمائی حاصل کرنا ناگزیر ہے۔ رسول اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ نوجوانوں کی فکری تربیت، اخلاقی تعمیر، کردار سازی، ذمہ داری کے احساس اور متوازن شخصیت کی تشکیل کے لیے بہترین نمونہ فراہم کرتی ہے۔سیمینار کے مہمانِ خصوصی اور مرکزی مقرر ڈاکٹر حاشر زبیری، شریکِ بانی و چیف ایگزیکٹو یونٹی انٹرنیشنل اسکول اسلام آباد تھے۔ انہوں نے سیرتِ طیبہ ﷺ کی روشنی میں نوجوان نسل کی فکری، اخلاقی اور عملی تربیت کی اہمیت پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں اور ان کی درست سمت میں تربیت ہی روشن مستقبل کی بنیاد بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ کردار، اخلاق اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی تربیت بھی ناگزیر ہے اور اس حوالے سے سیرتِ نبوی ﷺ مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔تقریبات کے دوران طلبہ کی علمی و دینی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے مقابلۂ حسنِ قرأت، مقابلۂ حسنِ نعت اور سیرت النبی ﷺ کوئز مقابلہ منعقد کیے گئے، جن میں واہ کینٹ کے مختلف کالجز اور مدارس کے طلبہ نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔ مقابلہ جات کی منصفی کے فرائض قاری محمد امین مجددی نقشبندی، علامہ ڈاکٹر حافظ اسد محمود عباسی، علامہ محمد عصمت ہزاروی، محمد اشرف شہزاد اور علامہ حافظ عاصم سعید قادری نے سرانجام دیئے، جبکہ محمود الحسن نے بطور نقیب پروگرام کی نظامت کے فرائض انجام دئیے۔دو روزہ تقریبات کی آخری نشست میں پروفیسر ڈاکٹر محمد رضوان، ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز اینڈ ہیومینٹیز نے خصوصی شرکت کی۔اختتامی نشست میں پیر عثمان علی عباسی اور علامہ صاحبزادہ منیر عالم ہزاروی نے بطور مہمانانِ خصوصی شرکت فرمائی جبکہ سماجی و سیاسی شخصیت راجہ طارق محمود بھی بطور مہمانِ خصوصی شریک
ہوئے۔اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر محمد رضوان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کی ذمہ داری صرف علمی قابلیت پیدا کرنا نہیں بلکہ ایسے باکردار، باشعور اور ذمہ دار نوجوان تیار کرنا بھی ہے جو معاشرے کی مثبت تعمیر میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ انہوں نے شعبہ علومِ اسلامیہ کی جانب سے عشرۂ رحمت للعالمین ﷺ کے سلسلے میں ایسی علمی و تربیتی سرگرمی کے انعقاد کو قابلِ تحسین قرار دیا اور منتظمین کو مبارک باد پیش کی۔علامہ صاحبزادہ منیر عالم ہزاروی نے خطاب کرتے ہوئے سیرتِ رسول اکرم ﷺ کے اخلاقی اور تربیتی پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ پوری انسانیت کے لیے کامل رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ نوجوان نسل اگر سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کو اپنی زندگی کا عملی نمونہ بنالے تو وہ نہ صرف اپنی شخصیت کو سنوار سکتی ہے بلکہ معاشرے کی اصلاح اور تعمیر میں بھی مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے۔سماجی و سیاسی شخصیت راجہ طارق محمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کو اپنی دینی، اخلاقی اور تہذیبی اقدار سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس سلسلے میں تعلیمی اداروں کا کردار نہایت اہم ہے، سید ضمیر حسین شاہ کاظمی نے تمام معزز مہمانانِ گرامی، علماء کرام، اساتذہ، ججز، طلبہ اور منتظمین کا دلی شکریہ ادا کیا جنہوں نے پروگرام میں شرکت کرکے اس کی رونق اور کامیابی میں اضافہ کیا۔پروگرام کے اختتام پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ میں انعامات، اسناد اور شیلڈز تقسیم کی گئیں۔ پروگرام کے انعقاد میں خدمات انجام دینے والے سید ضمیر حسین شاہ کاظمی اور قمر افضال قادری کو ان کی خدمات کے اعتراف میں پروفیسر ڈاکٹر محمد رضوان، ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز اینڈ ہیومینٹیز اور ڈاکٹر حافظ شعیب فاروق، چیئرپرسن شعبہ علومِ اسلامیہ کی جانب سے تعریفی سند بھی پیش کی گئی۔ شرکاء نے شعبہ علومِ اسلامیہ، یونیورسٹی آف واہ کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے مستقبل میں بھی ایسی علمی، دینی اور تربیتی سرگرمیوں کے تسلسل کی امید ظاہر کی۔





