26 ملین بچوں کا اسکول سے باہر ہونا بڑا چیلنج ، آرٹیکل 25-A پر فوری عملدرآمد کیا جائے، ڈاکٹر عبدالسلام

26 ملین بچوں کا اسکول سے باہر ہونا بڑا چیلنج ، آرٹیکل 25-A پر فوری عملدرآمد کیا جائے، ڈاکٹر عبدالسلام
عالمی یومِ خواندگی پر اسلام آباد میں لٹریسی واک، تعلیم کو حقیقی معنوں میں ایمرجنسی قرار دینے کا مطالبہ
اسلام آباد(بی بی سی رپورٹ) عالمی یومِ خواندگی کے موقع پر ایس او ایس فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں لٹریسی واک کا انعقاد کیا گیا، جس کی قیادت چیف ایگزیکٹو آفیسر ایس او ایس فاؤنڈیشن ڈاکٹر عبدالسلام نے کی۔ واک میں سماجی کارکنان زوفشاں نعیم، صائمہ خان، نعمان شاکر، سردار زبیر، پروگرام آفیسر جونیئر جناح ٹرسٹ نعمان افتخار سمیت طلبہ، اساتذہ، سماجی کارکنان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔واک ایف-6 مرکز سے شروع ہو کر نیشنل پریس کلب اسلام آباد پر اختتام پذیر ہوئی۔ شرکاء نے تعلیم کے حق، خواندگی کے فروغ اور اسکول سے باہر بچوں کو تعلیمی نظام میں شامل کرنے کے حق میں نعرے لگائے اور مختلف مطالبات پر مشتمل بینرز اور پلے کارڈ کے ذریعے حکومت سے فوری عملی اقدامات کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سی ای او ایس او ایس فاؤنڈیشن ڈاکٹر عبدالسلام نے کہا کہ پاکستان میں 26 ملین بچوں کا اسکول سے باہر ہونا ایک انتہائی سنگین قومی چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے محض اعلانات نہیں بلکہ ٹھوس، مستقل اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 25-A پر اس کی روح کے مطابق مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور پاکستان نے عالمی برادری کے ساتھ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے ہدف SDG-4 کے تحت جو تعلیم سے متعلق وعدے کیے ہیں، انہیں پورا کیا جائے۔ڈاکٹر عبدالسلام نے کہا کہ اسکول سے باہر بچوں کی ایک بڑی تعداد چائلڈ لیبر کا شکار ہے، جبکہ کئی علاقوں میں بچوں کی تعداد کے مقابلے میں اسکولوں اور تربیت یافتہ اساتذہ کی شدید کمی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ تعلیم کو حقیقی معنوں میں ایمرجنسی قرار دے، اس مقصد کے لیے مطلوبہ مالی وسائل مختص کرے اور بڑی تعداد میں تربیت یافتہ انسانی وسائل تیار کرے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان نے آج اسکول سے باہر 26 ملین بچوں کے مسئلے کو حل نہ کیا تو یہ بچے کل 26 ملین ناخواندہ اور غیر ہنر مند خاندانوں کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ ناخواندہ اور غیر ہنر مند نوجوان نہ صرف معاشی مواقع سے محروم رہتے ہیں بلکہ وہ غیر قانونی سرگرمیوں اور جرائم کے لیے آسان ہدف بھی بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہر بچے کو اسکول تک پہنچانا صرف تعلیم کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل، معیشت، امن اور سماجی استحکام کا مسئلہ ہے۔ حکومت، نجی شعبے، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں اور عوام کو مل کر اس قومی چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا۔واک کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کا کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہیں رہنا چاہیے اور ملک میں 100 فیصد بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے اجتماعی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔