اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)
زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ (ZTBL) کے 4 ہزار 500 سے زائد ریٹائرڈ ملازمین اپنے اربوں روپے کے واجب الادا بقایاجات اور پنشن کی عدم ادائیگی کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے۔ ریٹائرڈ ملازمین نے اسلام آباد میں احتجاج کرتے ہوئے حکومت اور بینک انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور اپنے جائز حقوق فوری طور پر ادا کرنے کا مطالبہ کیاملازمین کے نمائندوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ریٹائر ہوئے تقریباً چار سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے، تاہم اس کے باوجود زرعی ترقیاتی بینک کی جانب سے ان کے اربوں روپے کے واجبات کی ادائیگی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پنشن، گریجویٹی اور دیگر مالی واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث ہزاروں ریٹائرڈ ملازمین اور ان کے خاندان شدید مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔
اس موقع پر سابق جنرل سیکرٹری سی بی اے ایمپلائز یونین اقبال خان خٹک اور صدر سردار غلام مصطفیٰ خان نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ کے واضح اور حتمی احکامات کے باوجود ریٹائرڈ ملازمین کے بقایاجات کی ادائیگی میں لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے، جو عدالتی احکامات کی خلاف ورزی اور توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی کی قیمتی توانائیاں زرعی ترقیاتی بینک کی خدمت میں صرف کیں، مگر ریٹائرمنٹ کے بعد عمر کے اس حصے میں انہیں اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے سڑکوں پر احتجاج کرنا پڑ رہا ہے۔ شدید مہنگائی کے باعث علاج معالجے، ادویات اور گھریلو اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہو چکا ہے، جس کے باعث ریٹائرڈ ملازمین اور ان کے اہلخانہ شدید ذہنی و معاشی پریشانی کا شکار ہیں۔ریٹائرڈ ملازمین نے وزیراعظم فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر خزانہ اور اعلیٰ عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں تمام واجب الادا پنشن، گریجویٹی اور دیگر مالی بقایاجات بلا تاخیر جاری کرانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے جائز مطالبات پر فوری عملدرآمد نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ کار ملک بھر تک وسیع کیا جائے گا اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہر آئینی و قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔





