صنعتی ٹیرف میں اصلاحات ،برآمدی مسابقت اور عالمی منڈیوں تک رسائی کیلئے کم کاربن منتقلی اہم قرار
ایس ڈی پی آئی مکالمہ میں ماہرین کاپاکستانی صنعت کو عالمی کاربن تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے مربوط پالیسی پر زور
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ) ماہرین نے پاکستان کی سیمنٹ، سٹیل اور ٹیکسٹائل جیسی مشکل صنعتی شعبوں کو کم کاربن معیشت کی طرف منتقل کرنے کے لئے گیس اور بجلی کی منڈیوں میں اصلاحات، صنعتی ٹیرف کو معقول بنانے اور ہر شعبے کے لیے واضح ڈیکاربونائزیشن روڈ میپ تیار کرنے پر زور دیا ہے۔پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (SDPI) کے زیر اہتمام ’’مشکل شعبوں کےلئے کم کاربن منتقلی کے بین الاقوامی راستے‘‘ کے موضوع پر بین الاقوامی ویبینار میں ماہرین نے کہا کہ ڈیکاربونائزیشن اب صرف ماحولیاتی ضرورت نہیں رہی بلکہ برآمدات، صنعتی مسابقت اور عالمی منڈیوں تک رسائی کا اہم تقاضا بن چکی ہے۔ایس ڈی پی آئی کے تو انائی کے ماہرڈاکٹر خالد ولید نے بجلی کی منڈی کو آزاد اور مسابقتی بنانے اور CTBCM کے مکمل نفاذ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے صنعتوں کو قابلِ تجدید توانائی براہِ راست خریدنے کے مواقع مل سکتے ہیں۔ انہوں نے تقسیم شدہ سولر، بیٹری سٹوریج اور ورچوئل پاور پلانٹس کو بھی صنعتی ڈیکاربونائزیشن کے لئے اہم جبکہ مالی وسائل کی فراہمی کو بڑا چیلنج قرار دیا۔بین الاقوامی نیٹ ورک آف انرجی ٹرانزیشن تھنک ٹینکس (INET) کی انڈسٹری لیڈ کورینا فرسٹ نے بتایا کہ INET کے نیٹ ورک میں 25 ممالک کے 32 تھنک ٹینکس شامل ہیں جبکہ SDPI کو لاطینی امریکا، جنوبی امریکا اور جنوبی و جنوب مشرقی ایشیا سے منتخب کئے گئے چھ اداروں میں شامل کیا گیا ہے جو اپنے اپنے ممالک کے حالات کے مطابق صنعتوں کی کاربن میں کمی کے عملی فریم ورک تیار کر رہے ہیں۔پاکستان کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کی محقق ارفع اعجاز نے کہا کہ صنعتوں کی کاربن میں کمی اب صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ عالمی تجارت، برآمدی مسابقت اور سرمایہ کاری تک رسائی کا اہم عامل بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ٹیکسٹائل شعبہ، جو ملک کی برآمدات کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور مجموعی برآمدات میں تقریباً 57 فیصد حصہ رکھتا ہے، بالخصوص یورپی منڈیوں پر انحصار کی وجہ سے کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ GSP+ کے تحت ملنے والی ترجیحی تجارتی سہولت بھی متاثر ہونے کے خدشات موجود ہیںصنعت کی نمائندگی کرتے ہوئے آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (APTMA) کے انرجی ایڈوائزر عاصم ریاض نے کہا کہ ٹیکسٹائل صنعت میں کوجنریشن کے ذریعے کاربن میں کمی کا مؤثر امکان موجود ہے، تاہم گیس و بجلی کے غیر متوازن نرخ اور حالیہ ٹیرف اضافوں نے اس کی معاشی افادیت متاثر کی ہے۔ورلڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ انڈونیشیا کی فاریچا ہدایت نے بتایا کہ انڈونیشیا کے نیٹ زیرو روڈ میپ میں سیمنٹ، اسٹیل اور ٹیکسٹائل سمیت نو صنعتی شعبے شامل ہیں، جن کی ڈیکاربونائزیشن کے لیے 2025 سے 2050 تک تقریباً 290.5 ارب ڈالر سرمایہ کاری درکار ہوگی۔کاربن کرافٹ کے سبیال نجیب نے پاکستانی ٹیکسٹائل صنعت کےلئے عالمی سطح پر ایک متحد آواز اور بہتر نمائندگی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ کمپلائنس آڈٹس پر صنعت کا غیر معمولی وقت صرف ہو رہا ہے۔الٹرنیٹو ڈویلپمنٹ سروسز کے مشود عرفی نے صنعتی بجلی کے نرخوں میں اصلاح، مارجنل پرائسنگ اور کراس سبسڈی کے مرحلہ وار خاتمے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ کاربن میں کمی کی کوشش صنعت پر نیا مالی بوجھ نہیں بننی چاہئے۔پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ایکویٹیبل ڈویلپمنٹ کی مقدس عاشق نے بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام میں موجود رکاوٹوں کو صنعتی ڈیکاربونائزیشن کی اہم رکاوٹ قرار دیا۔اختتامی کلمات میں انجینئر عبید الرحمٰن ضیا نے کہا کہ ماہرین میں اس بات پر اتفاق ہے کہ پاکستان کو مربوط توانائی پالیسی اور ہر صنعتی شعبے کی ضروریات کے مطابق واضح ڈیکاربونائزیشن روڈ میپ درکار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایس ڈی پی آئی حکومت کے ساتھ صنعتی پالیسی، ہائیڈروجن پالیسی اور وسیع تر معاشی اصلاحات کے حوالے سے بھی کام کر رہا ہے۔





