فوڈ اتھارٹی اور ایکسائز ڈیپارٹمنٹ حکومتی فیصلے کی پابندی کریں۔ خالد چوہدری
حکومتی فیصلے پر تمام متعلقہ محکموں میں یکساں طور پر عمل درآمد کرایا جائے۔ راجہ ذوالفقار، یاسر عباسی
اسلام آباد کے تاجر آئندہ ٹریڈ لائسنس نہیں بنوائیں گے۔شہزاد عباسی۔عجب گل
اسلام آباد (سٹی رپورٹر) آل پاکستان انجمن تاجران اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد کے صدر اجمل بلوچ، سیکرٹری ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد و چیئرمین آئی سی سی آئی کمیٹی خالد محمود چوہدری ، عماد بن عارف ۔ شہزاد عباسی ۔احمد خان۔اسد عزیز ۔راجہ ذوالفقار، عجب گل، وحید چیمہ۔ رانا بلال۔ صفدر عباسی،ولید خالد یوسف راجپوت۔ مہتاب عباسی،شہباز کھوکھر۔ ظاہر عباسی ، محمد نعمان، کامران کاکاخیل۔راجہ سفیر ۔ ملک نعیم ۔اسماعیل خان، قمر عباسی، راجہ زاہد دھنیال ،احتشام کیانی ریاض خان ۔ثمان خان۔عبدالرحمان صدیقی۔ نذیر اعوان۔ شاہد عباسی۔ نعیم اعوان راجہ عاطف ۔سفیر عباسی۔ چوہدری کامران، عامر بخاری، مہر اللہ داد، اختر عباسی، چوہدری ریاست، عمر خیام، نعیم اعوان، مظفر ہاشمی ۔ عبداللہ اسمعیل ۔ چوہدری ظفر اقبال ۔اظہر اقبال ۔جمیل قریشی نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں کاروباری اداروں کے لیے ٹریڈ لائسنس کی شرط ختم کر دی ہے۔ تاجر برادری اس اہم اور کاروبار دوست فیصلے پر وفاقی حکومت کی شکر گزار ہے۔
اجمل بلوچ نے کہا کہ ٹریڈ لائسنس کی شرط کا خاتمہ اسلام آباد کے تاجروں کا دیرینہ مطالبہ تھا۔ اس فیصلے سے کاروباری افراد کو غیر ضروری کاغذی کارروائی، مختلف دفاتر کے چکر لگانے اور اضافی مالی بوجھ سے نجات ملے گی۔ اب چیف کمشنر اسلام آباد کی ذمہ داری ہے کہ وفاقی حکومت کے فیصلے پر تمام ماتحت اداروں اور متعلقہ محکموں میں مکمل اور یکساں عمل درآمد یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی ایک محکمے کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کر دینا کافی نہیں۔ آئی سی ٹی کے تمام متعلقہ اداروں کو تحریری اور واضح ہدایات جاری کی جائیں تاکہ سرکاری اہلکار اپنے اپنے طور پر مختلف تشریحات نہ کر سکیں اور تاجروں کو ٹریڈ لائسنس کے نام پر نوٹس، چالان، جرمانوں یا ہراسانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
خالد محمود چوہدری نے کہا کہ ڈائریکٹر ڈی ایم اے ڈاکٹر انعم فاطمہ نے ٹریڈ لائسنس کی شرط ختم کرنے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، تاہم ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ اور اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کی جانب سے ابھی تک اپنے دائرۂ کار سے متعلق واضح نوٹیفکیشن جاری نہیں کیے گئے۔
تمام تاجر نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ اور اسلام آباد فوڈ اتھارٹی دونوں چیف کمشنر آئی سی ٹی کے ماتحت ہیں۔ چیف کمشنر فوری طور پر دونوں محکموں کو ہدایات جاری کریں کہ وفاقی حکومت کے فیصلے کی روشنی میں لائسنسوں کے خاتمے یا متعلقہ کاروباری تقاضوں کے بارے میں واضح نوٹیفکیشن جاری کیے جائیں۔ محکموں کی جانب سے تاخیر کی وجہ سے تاجر برادری میں بے چینی اور تشویش پائی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک ہی وفاقی علاقے میں مختلف محکموں کی جانب سے الگ الگ طریقۂ کار اختیار کرنا کسی صورت مناسب نہیں۔ حکومتی فیصلے کی واضح تشریح تمام محکموں، فیلڈ دفاتر اور متعلقہ اہلکاروں تک پہنچائی جائے۔ نوٹیفکیشن جاری ہونے تک کسی تاجر کو لائسنس نہ بنوانے پر نوٹس یا جرمانہ جاری نہ کیا جائے اور نہ ہی کاروباری سرگرمی میں رکاوٹ پیدا کی جائے۔
تاجر نمائندوں نے یہ بھی کہا کہ تاجر برادری وفاقی حکومت کے فیصلے کی مکمل حمایت کرتی ہے، لیکن اس فیصلے کا حقیقی فائدہ اسی وقت حاصل ہوگا جب اس پر عملی طور پر تمام محکموں میں عمل درآمد کیا جائے گا۔ سرکاری فیصلوں پر تاخیر یا جزوی عمل درآمد سے تاجروں کے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ چیف کمشنر اسلام آباد تمام متعلقہ محکموں کا فوری اجلاس طلب کریں، حکومتی فیصلے پر عمل درآمد کی واضح مدت مقرر کریں اور تمام مارکیٹوں اور تجارتی مراکز کے لیے ایک متفقہ تحریری حکم نامہ جاری کریں۔
تاجر نمائندوں کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے فیصلے اور ڈی ایم اے کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے بعد اسلام آباد کے تاجر آئندہ ٹریڈ لائسنس نہیں بنوائیں گے۔ اگر کسی محکمے یا اہلکار نے ٹریڈ لائسنس کے نام پر تاجروں کو ہراساں کرنے، نوٹس دینے یا جرمانہ عائد کرنے کی کوشش کی تو تاجر تنظیمیں اس کے خلاف مشترکہ اور بھرپور آواز بلند کریں گی۔





