پشاور نادرن بائی پاس پر پولیس مقابلہ، اشتہاری مجرم ممتاز عرف ممتازے ہلاک

پولیس پر فائرنگ اور ہینڈ گرنیڈ سے حملہ، 2 ایس ایچ اوز زخمی، جوابی کارروائی میں 2 حملہ آور بھی مارے گئے، ممتازے نے بحرین سے روانگی سے قبل جعلی پولیس مقابلے کا خدشہ ظاہر کیا تھا
پشاور (خالد خان/بی بی سی رپورٹ) تھانہ شاہ پور کی حدود نادرن بائی پاس پر پولیس پر فائرنگ اور ہینڈ گرنیڈ سے حملے کے نتیجے میں اشتہاری مجرم ممتاز عرف ممتازے ہلاک ہوگیا جبکہ پولیس کی جوابی کارروائی میں دو مبینہ حملہ آور بھی مارے گئے، فائرنگ کے واقعے میں دو ایس ایچ اوز زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔
پولیس کے مطابق نادرن بائی پاس پر کارروائی کے دوران پولیس پارٹی کو مسلح افراد کی جانب سے فائرنگ اور ہینڈ گرنیڈ سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دو ایس ایچ اوز زخمی ہوئے۔ پولیس کی جوابی فائرنگ میں اشتہاری مجرم ممتاز عرف ممتازے سمیت تین مبینہ حملہ آور ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کرتے ہوئے مزید ملزمان کی تلاش بھی شروع کردی۔
سی سی پی او پشاور کے مطابق واقعے سے متعلق مزید تفصیلات سرچ آپریشن مکمل ہونے کے بعد جاری کی جائیں گی۔
دوسری جانب اس پولیس مقابلے کے حوالے سے ایک اہم پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے ممتاز عرف ممتازے نے بحرین سے پاکستان منتقلی کے موقع پر بحرین پولیس کی جانب سے فراہم کیے گئے موبائل فون کے ذریعے ایک وائس پیغام ریکارڈ کرکے اپنے وکیل اور متعلقہ عدالت کے جج کو بھجوایا تھا، جس میں اس نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اسے مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کیا جا سکتا ہے۔
مبینہ وائس پیغام میں ممتازے نے کہا تھا کہ ’’آج 31 تاریخ ہے، مجھے بحرین ایئرپورٹ لایا گیا ہے۔ اب تک میں جیل میں تھا۔ ڈی ایس پی فقیر آباد اعجاز نبی اور ڈی ایس پی خزانہ اشفاق خان آئے ہیں اور ایئرپورٹ پر مجھ سے ملے ہیں۔ یہ وائس جج صاحب کو سنا دی جائے تاکہ بعد میں یہ نہ کہا جائے کہ پولیس مقابلہ ہو گیا یا میرے دوست مجھے چھڑانے آئے تھے۔ میرے دوست اتنے بہادر نہیں کہ وہ پولیس سے چھڑانے کی کوشش کریں۔‘‘
ممتازے نے مبینہ وائس پیغام میں پشاور پولیس کے بعض افسران پر سنگین الزامات بھی عائد کیے تھے۔ اس نے دعویٰ کیا تھا کہ ماضی میں بھی اسے مبینہ طور پر تین ماہ تک لاپتہ رکھا گیا اور اس کے مخالفین سے بھاری رقم وصول کی گئی، تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
ممتازے کا مبینہ طور پر یہ بھی کہنا تھا کہ اس کے خلاف جن مقدمات کا حوالہ دیا جا رہا ہے، ان میں سے بیشتر میں وہ عدالتوں سے ضمانت حاصل کر چکا ہے۔ وائس پیغام کے اختتام پر اس نے بتایا تھا کہ ڈی ایس پی اعجاز نبی اور ڈی ایس پی اشفاق کے ساتھ ایک ہی پرواز میں اس کی نشست ہے اور اسلام آباد پہنچتے ہی اس کا موبائل فون بند کرکے پولیس افسران کے حوالے کردیا جائے گا۔
ادھر پولیس کا دعویٰ ہے کہ ممتاز عرف ممتازے ایک منظم جرائم پیشہ گروہ کا سرغنہ تھا اور قتل، اقدام قتل، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، قبضہ مافیا، راہزنی، اغوا، پولیس پر حملوں اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے سمیت 49 سنگین مقدمات میں مطلوب تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں جبکہ سرچ آپریشن مکمل ہونے کے بعد واقعے اور ہلاک ہونے والے افراد سے متعلق مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔





