انٹرنیٹ سروسز کی ناقص صورتحال پر قائمہ کمیٹی کا اظہار تشویش، ٹیلی کام کمپنیوں سے جواب طلب
اسلام آباد(اظہار خان نیازی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے ملک میں انٹرنیٹ سروسز کی ناقص اور غیر تسلی بخش صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے گزشتہ 6 ماہ کے دوران ٹیلی کام آپریٹرز کو جاری کیے گئے شوکاز نوٹسز، عائد جرمانوں اور وصول شدہ رقوم کی مکمل تفصیلات طلب کرلیں۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں تمام متعلقہ ٹیلی کام آپریٹرز کے نمائندوں کو طلب کرتے ہوئے موجودہ انٹرنیٹ سروسز بہتر بنانے، انفراسٹرکچر اپ گریڈ کرنے اور ملک بھر میں نیا ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر تیار کرنے کے اقدامات پر براہ راست بریفنگ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ قائمہ کمیٹی کا 24واں اجلاس چیئرمین سید امین الحق کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ پی ٹی اے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ انٹرنیٹ اور ٹیلی کام سروسز کے معیار کو جانچنے کے لیے باقاعدگی سے کوالٹی آف سروس سروے کیے جاتے ہیں، جن کے نتائج متعلقہ کمپنیوں کو فراہم کرکے سروس کا معیار 30 روز میں بہتر بنانے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ مقررہ مدت کے بعد دوبارہ سروے کیا جاتا ہے اور خامیاں برقرار رہنے کی صورت میں متعلقہ کمپنی کو شوکاز نوٹس جاری کرکے قواعد کے مطابق جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ پی ٹی اے کے مطابق ٹیلی کام آپریٹرز پر زیادہ سے زیادہ 35 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔ حکام نے بتایا کہ بعض آپریٹرز جرمانے ادا کرنے کے بجائے عدالتوں سے رجوع کرلیتے ہیں جس کے باعث قانونی کارروائی طویل ہونے سے بروقت اصلاحی اقدامات میں تاخیر ہوتی ہے۔ کمیٹی نے پی ٹی اے کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں گزشتہ 6 ماہ کے دوران جاری کیے گئے تمام شوکاز نوٹسز، عائد جرمانوں، وصول شدہ رقم اور بقایا واجبات کی مکمل تفصیلات پیش کی جائیں۔ کمیٹی نے ٹیلی کام کمپنیوں کے نمائندوں کو بھی آئندہ اجلاس میں طلب کرنے کی ہدایت کی تاکہ صارفین کو بہتر اور معیاری انٹرنیٹ کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کا جائزہ لیا جاسکے۔ اجلاس میں ٹیلی کام آپریٹرز کو صنعتی حیثیت دینے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ ممبر ٹیلی کام نے کمیٹی کو بتایا کہ فنانس ایکٹ 2021ء کے تحت ٹیلی کام آپریٹرز کو صنعت کا درجہ دیا گیا تھا تاہم نیپرا نے ٹیلی کام شعبے کو صنعت تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ ٹیلی کام آپریٹرز مطلوبہ ویلیو ایڈیشن فراہم نہیں کرتے۔ کمیٹی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ممبر ٹیلی کام کو قانونی، مالی اور تکنیکی پہلوؤں پر مشتمل تفصیلی ورکنگ پیپر تیار کرنے کی ہدایت کردی جبکہ آئندہ اجلاس میں نیپرا کے نمائندوں کو بھی طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کمیٹی نے قرار دیا کہ ٹیلی کام آپریٹرز کو صنعتی حیثیت ملنے سے ٹیلی کام ٹاورز کو بجلی کی فراہمی اور لوڈشیڈنگ سے متعلق مسائل حل کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ بجلی کی بندش کے باعث بعض اوقات ٹیلی کام ٹاورز بند ہوجاتے ہیں جس سے موبائل اور انٹرنیٹ سگنلز کی دستیابی متاثر ہوتی ہے۔ کمیٹی نے انٹرنیٹ اور ٹیلی کام سروسز کے معیار اور تسلسل کو بہتر بنانے کے لیے بلا تعطل بجلی سمیت تمام متعلقہ مسائل کا عملی حل تلاش کرنے پر زور دیا۔ اجلاس میں الیکٹرانک ٹرانزیکشنز ترمیمی بل 2026ء بھی زیر غور آیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان نے بل کی مجوزہ ترامیم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترامیم پر تاحال پارٹی کی پارلیمانی قانون ساز کمیٹی سے مشاورت نہیں کی گئی، جس کے باعث بل ابھی مشاورت کے مرحلے میں ہے۔ کمیٹی نے وزارت خزانہ کو بل پر مطلوبہ مشاورت مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید غور آئندہ اجلاس تک مؤخر کردیا۔ اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی ذوالفقار علی بھٹی، احمد عتیق انور، رانا ارادت شریف خان، عمار احمد خان لغاری، شازیہ فرید، سید علی قاسم گیلانی، ڈاکٹر مہیش کمار ملانی، صادق علی میمن، احمد سلیم صدیقی اور پلین بلوچ سمیت وزارت اور اس کے ذیلی اداروں کے حکام نے شرکت کی۔





