آل پاکستان ریلوے پنشنرز ایسوسی ایشن کا مطالبہ

راولپنڈی (اسٹاف رپورٹر)آل پاکستان ریلوے پنشنرز ایسوسی ایشن کا مطالبہ: نادرا سے معاہدہ ہونے تک ریلوے پنشنرز کے بائیو میٹرک، لائف اور نو میرج سرٹیفکیٹس بینک انتظامیہ وصول کرے۔

آل پاکستان ریلوے پنشنرز ایسوسی ایشن کے عہدیداران کا ایک ہنگامی اجلاس چیئرمین میاں محمد اسلم کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں ریلوے پنشنرز کو درپیش نئے مسائل اور پنشن کی بروقت ادائیگی میں حائل رکاوٹوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں سیکرٹری جنرل آل پاکستان ریلوے پنشنرز ایسوسی ایشن، جناب اورنگزیب تنولی نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ پنشنرز کی بائیو میٹرک تصدیق "پاک آئی ڈی” کے ذریعے کی جائے گی، اور اسی پلیٹ فارم سے لائف سرٹیفکیٹ بھی اپ لوڈ کیا جا سکے گا۔ اس سلسلے میں آڈیٹر جنرل کی جانب سے جاری مراسلے میں متعلقہ اداروں کو مخاطب کیا گیا، تاہم دیگر محکموں کا ذکر نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ نادرا نے بعد ازاں وضاحت جاری کی کہ "پاک آئی ڈی” کے ذریعے صرف ملٹری اکاؤنٹس اور آئی جی پی آر سے پنشن وصول کرنے والے افراد اس سہولت سے مستفید ہو سکیں گے، جبکہ ریلوے پنشنرز اس میں شامل نہیں ہیں کیونکہ پاکستان ریلوے اور نادرا کے درمیان تاحال کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔اورنگزیب تنولی نے مزید کہا کہ ریلوے پنشنرز کے لیے صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے جب وہ بینک جاتے ہیں اور انہیں "پاک آئی ڈی” کے ذریعے لائف سرٹیفکیٹ اور بائیو میٹرک تصدیق کروانے کا کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری مراسلے میں بھی صرف مذکورہ دو محکموں کا ذکر ہے، جبکہ دیگر محکموں کے بارے میں کوئی واضح ہدایت موجود نہیں۔انہوں نے بتایا کہ جب ریلوے پنشنرز "پاک آئی ڈی” کے ذریعے اپنی تصدیق کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں پیغام موصول ہوتا ہے کہ ان کا پنشن ریکارڈ رجسٹرڈ نہیں ہے، جس کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اجلاس میں آل پاکستان ریلوے پنشنرز ایسوسی ایشن نے سیکرٹری وزارتِ خزانہ سے مطالبہ کیا کہ تمام بینکوں کو فوری طور پر نوٹیفکیشن جاری کیا جائے کہ جب تک پاکستان ریلوے کا نادرا کے ساتھ معاہدہ نہیں ہو جاتا، اس وقت تک ریلوے کے تمام پنشنرز کے بائیو میٹرک، لائف اور نو میرج سرٹیفکیٹس بدستور پہلے کی طرح بینک انتظامیہ ہی وصول کرے، تاکہ پنشنرز کو بروقت ادائیگی ممکن ہو سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔