معروف صحافی تنویر اقبال کے گھر پر مسلح دھاوا، اہلخانہ کو قتل کی دھمکیاں، بعدازاں مبینہ اغوا اور تشدد

 

صحافتی سرگرمیاں جاری رکھنے پر پورے خاندان کو قتل کرنے کی دھمکی، مری روڈ سے مبینہ اغوا کے بعد تین گھنٹے حبسِ بے جا میں رکھنے اور تشدد کا الزام، صحافتی تنظیموں کا شدید احتجاج

اسلام آباد (نامہ نگار) معروف صحافی تنویر اقبال کے گھر پر مبینہ طور پر مسلح افراد کے دھاوا بولنے، اہلخانہ کو سنگین نتائج اور قتل کی دھمکیاں دینے کے چند روز بعد انہیں راولپنڈی کے علاقے مری روڈ سے مبینہ طور پر اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ واقعے پر صحافتی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری کارروائی اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق 25 جولائی کی رات تقریباً 10 بجے چند نامعلوم مسلح افراد مبینہ طور پر تنویر اقبال کی رہائش گاہ میں زبردستی داخل ہوئے۔ اس وقت تنویر اقبال گھر پر موجود نہیں تھے تاہم مسلح افراد نے اہلخانہ کو خوف و ہراس میں مبتلا کیا، بچوں کے سامنے اسلحہ لہراتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اور مبینہ طور پر کہا کہ اگر تنویر اقبال نے اپنی صحافتی سرگرمیاں جاری رکھیں تو پورے خاندان کو قتل کردیا جائے گا۔ واقعے کے باعث گھر میں موجود خواتین اور بچے شدید خوف اور ذہنی اذیت کا شکار ہوئے۔

ذرائع کے مطابق اس واقعے کے چند روز بعد 11 اگست کو تنویر اقبال کو راولپنڈی کے علاقے مری روڈ سے مبینہ طور پر نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کرلیا۔ انہیں سکستھ روڈ کے قریب ایک مقام پر لے جایا گیا جہاں مبینہ طور پر تقریباً تین گھنٹے تک غیر قانونی حراست میں رکھا گیا اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ واقعے کی اطلاع فوری طور پر ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر دی گئی، تاہم پولیس کی جانب سے مبینہ تاخیر سے کارروائی کیے جانے پر صحافتی حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

تنویر اقبال نے واقعات کو آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں کو خوفزدہ یا خاموش کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ دھمکیوں، مبینہ اغوا اور تشدد کے باوجود وہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض اور عوامی مسائل کی نشاندہی کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

انہوں نے وزیر اعظم پاکستان، وفاقی وزیر داخلہ، آئی جی اسلام آباد پولیس اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعات میں ملوث ذمہ دار عناصر کو فوری گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے جبکہ ان کے اور ان کے اہلخانہ کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

تنویر اقبال کے مطابق واقعے کی رپورٹ تھانہ لوہی بھیر میں درج کرائی جاچکی ہے، تاہم تاحال کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، اسلام آباد پریس کلب، لاہور پریس کلب، سپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن اور دیگر صحافتی و انسانی حقوق کی تنظیموں نے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو ہراساں یا نشانہ بنانا دراصل عوام کے حقِ معلومات پر حملہ ہے، ایسے واقعات کسی بھی جمہوری معاشرے میں قابل قبول نہیں۔

صحافتی تنظیموں نے چیف جسٹس آف پاکستان اور اسلام آباد ہائی کورٹ سے بھی اپیل کی ہے کہ معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور متاثرہ صحافی کو انصاف فراہم کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی صحافی کو اس نوعیت کی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اگر آپ چاہیں تو اسے زیادہ سخت اور مؤثر اخباری انداز، فرنٹ پیج خبر یا مختصر ٹویٹ کی شکل میں بھی ڈھال سکتا ہوں۔