ماحولیاتی تبدیلی کمیٹی کا اسلام آباد میں گاڑیوں کی باقاعدہ ایمیشن ٹیسٹنگ کا نظام قائم کرنے کی سفارش
اسلام آباد(اظہار خان نیازی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ نے اسلام آباد میں موٹر گاڑیوں کے دھوئیں کی باقاعدہ جانچ کا مؤثر نظام قائم کرنے کی سفارش کرتے ہوئے پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایکٹ 1997ء اور اس کے شیڈول کو جدید تقاضوں اور بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت کردی۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرپرسن منیزہ حسن کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس کے آئینی کمرے میں ہوا، جس میں وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ اور پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی نے ادارے کے قانونی مینڈیٹ، استعداد کار اور ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد سے متعلق بریفنگ دی۔ پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی نے کمیٹی کو بتایا کہ قومی ماحولیاتی رپورٹ، جو آخری مرتبہ 2016ء میں شائع ہوئی تھی، گزشتہ پانچ سال کے عرصے پر مشتمل رپورٹ کی تیاری جاری ہے اور مشاورتی اجلاسوں کا سلسلہ ایک سال سے جاری ہے، رپورٹ 15 دسمبر 2026ء تک شائع کردی جائے گی۔ چیئرپرسن نے کمیٹی کو پیش کیے گئے بریفنگ پیپرز میں اعدادوشمار کے تضاد پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ماحولیاتی آلودگی خصوصاً فضائی آلودگی کی روک تھام کے حوالے سے کمیٹی نے قرار دیا کہ صرف نگرانی کافی نہیں بلکہ آلودگی کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔ حکام نے بتایا کہ ٹرانسپورٹ سے پیدا ہونے والی آلودگی پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں جبکہ اسلام آباد میں برقی بسوں کے نظام کے آغاز کے لیے سی ڈی اے کے ساتھ بھی کام جاری ہے۔ چیئرپرسن نے گزشتہ اجلاس میں پیش کیے گئے ایئر کوالٹی مینجمنٹ پلان کے قلیل مدتی اقدامات کے بارے میں تفصیلات طلب کرتے ہوئے اس امر پر بھی تحفظات کا اظہار کیا کہ منصوبے پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہورہا۔ کمیٹی نے وزارت اور ادارے کے ملازمین میں کار پولنگ کی حوصلہ افزائی کے لیے سوشل میڈیا مہم چلانے کی سفارش بھی کی۔ ڈیزل انجن پر چلنے والی کمرشل ٹرانسپورٹ کی نگرانی کے حوالے سے حکام نے بتایا کہ 50 گاڑیوں کا معائنہ کیا گیا جن میں سے 11 کو جرمانے کیے گئے۔ کمیٹی نے قرار دیا کہ گاڑیوں کی محض اچانک چیکنگ کے بجائے باقاعدگی سے معائنہ ہونا چاہیے اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں موٹر گاڑیوں کے اخراج کی باقاعدہ ٹیسٹنگ کا نظام قائم کیا جائے۔ قومی ماحولیاتی معیار کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارہ 2010ء کے قواعد پر عمل پیرا ہے اور یہ قواعد خطے کے دیگر ممالک کے ماحولیاتی معیارات سے ہم آہنگ ہیں۔ کمیٹی نے پانی کی جانچ، ماحولیاتی معیار اور لیبارٹریوں کی کارکردگی سے متعلق رپورٹ بھی طلب کرلی جبکہ ماحولیاتی لیبارٹریوں کے دورے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد کے بارے میں حکام نے بتایا کہ جرمانے ایجنسی اور ٹریبونل دونوں کی جانب سے عائد کیے جاتے ہیں، صنعتی نگرانی کے لیے سرویلنس اور مانیٹرنگ سسٹم موجود ہے جبکہ ماحولیاتی اثرات کے جائزے اور ابتدائی ماحولیاتی جانچ کے تقاضوں کے تحت گردوغبار کی نگرانی بھی کی جاتی ہے۔ پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی نے کمیٹی کو بتایا کہ ادارہ مالی وسائل اور افرادی قوت کی کمی کا شکار ہے اور امور کو ڈیجیٹلائز کرنے کی جانب پیش رفت جاری ہے۔ کمیٹی نے وزارت اور ایجنسی میں ڈیپوٹیشن پر تعینات ملازمین کی تفصیلات اور ہر تعیناتی کی وجوہات فراہم کرنے کی سفارش بھی کی۔ کمیٹی نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کی سوشل میڈیا پر انتہائی محدود موجودگی پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مؤثر بنانے کی سفارش کی۔ اجلاس میں پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایکٹ 1997ء کا ازسرنو جائزہ لے کر اسے موجودہ تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے، قانون کے شیڈول میں بین الاقوامی ماحولیاتی معاہدوں کے حوالے سے ضروری ترامیم کرنے اور پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی کے ارکان کو آئندہ اجلاس میں مدعو کرنے کی سفارش کی گئی۔ مارگلہ ہلز نیشنل پارک اور اسلام آباد کے دیگر محفوظ علاقوں کے تحفظ و انتظام کے حوالے سے اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کی تفصیلی بریفنگ بورڈ کے چیئرمین کی عدم شرکت کے باعث مؤخر کردی گئی۔ اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی میر خان محمد جمالی، شائستہ پرویز، سیدہ شہلا رضا، مسرت رفیق مہیسار، ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم سومرو، رانا انصار، تمکین اختر نیازی، شاہدہ رحمانی، طاہرہ اورنگزیب اور محمد عثمان بدینی سمیت وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کے سیکریٹری اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔





