داؤدخیل(رپورٹ ضیاءنیازی سے)صاف ستھرا پنجاب” کے سینیٹری ورکرز کے ساتھ ظلم غریب ورکرز سے 12گھنٹے ڈیوٹی لی جا رہی ہے نہ تنخواہ بڑھائی گئی نہ اوور ٹائم اور ہر ماہ کی تنخواہ بھی لیٹ ورکرز کو ملتی ہے اور کئی کو کم اجرت دی جاتی ہے ستھرا پنجاب میں کرپشن کرنے والوں کو کب گرفت میں لایا جائے گا اگر کوئی ورکر حق کے لیے آواز بلند کرئے تو نوکری سے فارغ کر دیا جاتا ہے صاف ستھرا پنجاب” مشن کے تحت شہر اور دیہات کو چمکانے والے سینیٹری ورکرز اس وقت شدید استحصال اور ناانصافی کا شکار ہیں۔ دن رات محنت کرنے والے ان محنت کشوں سے روزانہ 12, 12 گھنٹے ڈیوٹی لی جا رہی ہے، لیکن بدلے میں نہ کوئی اوور ٹائم دیا جا رہا ہے اور نہ ہی جائز حقوق فراہم کیے جا رہے ہیں۔ورکرز کا کہنا تھا کہ
12 گھنٹے ڈیوٹی اور اوور ٹائم کا خاتمہ کیا جائے افسران کی جانب سے کبھی ایم ڈی (MD) اور کبھی ڈی سی (DC) کے دورے کا بہانہ بنا کر ورکرز سے مسلسل 12 گھنٹے کام لیا جا رہا ہے، جس کا کوئی اضافی معاوضہ (اوور ٹائم) نہیں ملتا۔
ناجائز کٹوتی اور جرمانے: اگر کوئی ورکر کسی سخت مجبوری کی بنا پر ایک دن کی چھٹی کر لے تو اس کی تنخواہ سے 3,600 روپے کاٹ لیے جاتے ہیں، جو کہ انتہائی ظلم اور سراسر زیادتی ہے۔
اتوار کی چھٹی کا سلب ہونا سرکاری قوانین کے مطابق اتوار کی چھٹی کا حق حاصل ہونے کے باوجود ورکرز کو بلاوجہ کام پر بلا لیا جاتا ہے۔
آٹھ گھنٹے ڈیوٹی کا کہا جاتا ہے انتہائی کم تنخواہ میں اتنی زیادہ ڈیوٹی لینا انسانی حقوق اور مزدوروں کے قوانین کی شدید خلاف ورزی ہے۔ڈی سی میانوالی شاہد عباس کاٹھیا اوراعلیٰ حکام سے فوری اپیل کرتے ہیں کہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے۔ ورکرز کے کام کے اوقات کار کو سرکاری قوانین کے مطابق صبح 6:00 بجے سے دوپہر 2:00 بجے (کل 8 گھنٹے) تک محدود کیا جائے اور ان کی تنخواہوں سے ناانصافی پر مبنی کٹوتیوں کا سلسہ بند کیا جائے۔محنت کشوں کا استحصال بند کرو، ان کے حقوق بحال کرو ستھرا پنجاب کا ورکر صبح اندھیرے میں ڈیوٹی پر پانچ بجے پہچنے کا پابند ہے لیکن اس کی تنخواہ کم ہے غریب ورکرز بھی اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارنے چاہتے ہیں





