طوفانی بارشوں سے کروڑوں روپے کا نقصان، ماڈرن بازار اور فلائی اوور کی زد میں آنے والے تاجر شدید مشکلات سے دوچار
گوجرخان (صنوبر کیانی) گوجرخان میں فلائی اوور سمیت میگا پروجیکٹ کا کام تاخیر سے شروع ہونے اور برسات کے آغاز سے کچھ عرصہ قبل تعمیراتی سرگرمیاں شروع کیے جانے کے باعث شہریوں اور تاجروں کے لیے مشکلات میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا، طوفانی بارشوں کے دوران نکاسی آب کا نظام بری طرح متاثر ہونے سے ماڈرن بازار سمیت فلائی اوور کی زد میں آنے والے علاقوں میں پانی جمع ہوگیا، متعدد دکانوں اور بیسمنٹ میں کئی کئی فٹ پانی داخل ہونے سے تاجروں کو کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی کاروباری حالات کی خرابی اور روزگار کی تنگی کے باعث شدید پریشانی سے دوچار تھے، رہی سہی کسر فلائی اوور کی تعمیر کے لیے کی جانے والی کھدائی اور نکاسی آب کے نظام میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے پوری کردی۔ تعمیراتی کام کے دوران نکالی گئی مٹی اور ملبے کو مناسب انداز میں ہموار نہ کیے جانے اور پانی کے قدرتی و تعمیر شدہ راستوں میں رکاوٹوں کے باعث بارش کا پانی سڑکوں اور بازاروں میں جمع ہو کر سیلابی صورتحال اختیار کرگیا۔
ذرائع کے مطابق بعض مقامات پر پانی بیسمنٹ میں کئی فٹ تک داخل ہوا، جس کے باعث دکانوں میں موجود قیمتی سامان، مالِ تجارت، فرنیچر اور دیگر اشیا کو شدید نقصان پہنچا۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت نکاسی آب کا متبادل انتظام کیا جاتا اور تعمیراتی کام کے دوران پانی کے گزرنے کے راستوں کو کھلا رکھا جاتا تو صورتحال اس قدر سنگین نہ ہوتی۔
شہریوں اور تاجروں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فلائی اوور اور میگا پروجیکٹ کے تعمیراتی کام کے دوران نکاسی آب کے نظام کو بحال رکھنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں، کھدائی سے نکلنے والی مٹی اور ملبے کو فوری طور پر مناسب طریقے سے ہٹایا جائے، متاثرہ مقامات سے پانی کی نکاسی کا مستقل انتظام کیا جائے اور بارشوں کے دوران تاجروں و شہریوں کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے۔
تاجروں نے مطالبہ کیا کہ حالیہ بارشوں سے ہونے والے نقصانات کا فوری سروے کرایا جائے اور متاثرہ دکانداروں کو مناسب معاوضہ یا ریلیف فراہم کیا جائے، کیونکہ میگا پروجیکٹ شہریوں کی سہولت کے لیے شروع کیا گیا ہے، اسے عوام اور تاجروں کے لیے عذاب نہیں بننا چاہیے۔





