تھانہ جاتلی منشیات کیس، نامزد ملزم محمد ارشاد باعزت بری

 

پراسیکیوشن ملزم کے خلاف جرم ثابت کرنے میں ناکام رہی، راجہ محمد جواد ارسلان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کے مدلل دلائل پر عدالت کا فیصلہ

گوجرخان (صنوبر کیانی) تھانہ جاتلی کے منشیات کیس میں نامزد ملزم محمد ارشاد کو ایڈیشنل سیشن جج چوہدری باسط علیم نے باعزت بری کر دیا۔ مقدمے کی پیروی راجہ محمد جواد ارسلان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان نے کی۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ جاتلی میں سال 2025ء کے دوران مقدمہ نمبر 489 زیر دفعہ 9(1)3C درج کیا گیا تھا، جس میں محمد ارشاد کو نامزد کرتے ہوئے الزام عائد کیا گیا کہ اس کے قبضے سے 1620 گرام چرس برآمد ہوئی۔ دوران سماعت ملزم کے وکیل راجہ محمد جواد ارسلان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان نے مدلل اور مضبوط دلائل پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف عائد الزامات کو ٹھوس شواہد کے ذریعے ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ عدالت نے وکیل صفائی کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے 31 اگست 2026ء کو محمد ارشاد کو مقدمے سے باعزت بری کرنے کا حکم سنا دیا۔