واپڈا سٹی ڈکیتی اور جھنگ میں ایم پی اے کے گھر مبینہ واردات میں مطلوب گینگ کا سرغنہ وقار خان عرف میجر ساتھیوں سمیت مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا، لوٹے گئے مال کی ریکوری نہ ہونے پر سوالات اٹھ گئے
فیصل اباد/چک جھمرہ (ویب ڈیسک) سی سی ڈی فیصل آباد اور پشاور پولیس نے مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فیصل آباد کے واپڈا سٹی میں ٹریفک پولیس افسر اخلاق احمد چیمہ کے گھر ڈکیتی اور جھنگ میں ایم پی اے کے گھر مبینہ ڈکیتی سمیت مختلف سنگین وارداتوں میں مطلوب مبینہ گینگ کے چار ارکان کو پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں مبینہ گینگ کا سرغنہ وقار خان عرف میجر جبکہ اس کے ساتھی اعجاز، ساحل خان اور چھرے افغانی شامل ہیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ گینگ پنجاب سمیت ملک کے مختلف بڑے شہروں میں ہاؤس ڈکیتیوں، گاڑیاں چھیننے اور دیگر سنگین جرائم میں مبینہ طور پر ملوث تھا اور منظم انداز میں وارداتیں کرتا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزمان متعدد مقدمات میں مطلوب تھے اور ان کی گرفتاری کے لیے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی گئی۔ تاہم پولیس مقابلے میں ملزمان کی ہلاکت کے بعد ایک اہم سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر مذکورہ ملزمان مختلف ڈکیتیوں اور دیگر وارداتوں میں ملوث تھے تو ان سے لوٹی گئی رقم، زیورات، گاڑیاں اور دیگر قیمتی سامان کی برآمدگی کہاں ہے؟ ملزمان کی ہلاکت کے بعد متاثرین کے مال کی ریکوری، وارداتوں میں استعمال ہونے والے ذرائع اور دیگر شواہد کی دستیابی کا معاملہ مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی بلاشبہ قابلِ تحسین ہے، تاہم ایسے واقعات میں پولیس مقابلے کے ساتھ ساتھ لوٹے گئے مال کی برآمدگی، مقدمات سے متعلق شواہد کی تکمیل اور شفاف تحقیقات بھی انتہائی ضروری ہیں تاکہ متاثرین کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔





