قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا ملک بھر میں شادی کی یکساں عمر مقرر کرنے پر زور

معاشرتی برائیوں کے خاتمے کے لیے وزارتوں میں مؤثر رابطہ، سخت اقدامات اور بھرپور میڈیا مہم چلانے کی ہدایت

اسلام آباد (اظہار خان نیازی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے ملک بھر میں شادی کی عمر سے متعلق وفاق اور صوبوں کے مختلف قوانین پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزارتِ انسانی حقوق کو ہدایت کی ہے کہ تمام صوبوں کو اعتماد میں لے کر شادی کی یکساں عمر مقرر کرنے کے لیے مؤثر اور سخت اقدامات کیے جائیں۔

قائمہ کمیٹی کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے کمیٹی روم نمبر 7 میں کمیٹی کی چیئرپرسن آسیہ ناز تنولی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ارکانِ قومی اسمبلی، وزارتِ انسانی حقوق اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزارتِ انسانی حقوق کی جانب سے اسلام آباد میں اسلامی تعاون تنظیم کے خواتین سے متعلق نویں وزارتی اجلاس کے کامیاب انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ اس سے خواتین کے سماجی و معاشی بااختیار بنانے، ڈیجیٹل شمولیت اور سیاسی شرکت کو فروغ ملے گا۔

کمیٹی نے ملک میں عصمت دری، ہراسگی، بچوں سے زیادتی، منشیات اور پیشہ ورانہ گداگری جیسے سماجی مسائل کے مؤثر تدارک میں متعلقہ وزارتوں اور اداروں کی کارکردگی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ارکان نے کہا کہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کے فقدان کے باعث پالیسیوں پر عملی درآمد نہ ہونے کے برابر ہے اور بیشتر اقدامات صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہیں۔

کمیٹی نے وزارتِ انسانی حقوق کو ہدایت کی کہ تمام متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کا نظام قائم کیا جائے تاکہ معاشرتی برائیوں کے خلاف مربوط حکمتِ عملی اختیار کی جا سکے۔ ساتھ ہی وزارت کو عوامی آگاہی کے لیے بھرپور میڈیا مہم شروع کرنے کی بھی ہدایت کی گئی تاکہ شہریوں کو وزارت کی خدمات اور دستیاب سہولیات سے آگاہ کیا جا سکے۔

اجلاس کے دوران قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں اور چائلڈ پروٹیکشن انسٹی ٹیوٹ کی کارکردگی اور درپیش مسائل پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اداروں کے نمائندوں نے بجٹ میں اضافے اور خالی آسامیوں پر فوری بھرتیوں کے لیے کمیٹی سے تعاون کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مناسب وسائل کی فراہمی سے وہ اپنی ذمہ داریاں زیادہ مؤثر انداز میں انجام دے سکیں گے۔

اجلاس میں دانیال چوہدری، شمشیر علی مزاری، زیب جعفر، تمکین اختر نیازی، ڈاکٹر نیلسن عظیم، سحر کامران، شاہدہ رحمانی، نوید عامر، صبیحین غوری (زوم کے ذریعے)، سیدہ نوشین افتخار اور وزارتِ انسانی حقوق و متعلقہ اداروں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔