شہریوں کو درپیش مشکلات فوری دور کرنے، کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ اسلام آباد انتظامیہ کو فراہم کرنے کی ہدایت؛ جعلی کالز، غیر قانونی سمز، بائیومیٹرک ڈیٹا کے غلط استعمال اور مالی فراڈ کی روک تھام کیلئے مؤثر اقدامات پر زور
اسلام آباد (اظہار خان نیازی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات کا اجلاس چیئرمین راجہ خرم شہزاد نواز کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوا، جس میں کمیٹی کی سابقہ سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے سابقہ سفارشات پر عملدرآمد نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ سفارشات پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
کمیٹی نے ضابطہ فوجداری ترمیمی بل 2025ء پر غور وزیر قانون و انصاف کی بیرون ملک موجودگی کے باعث آئندہ اجلاس تک مؤخر کردیا، جبکہ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری بلدیاتی حکومت ترمیمی بل 2026ء کی منظوری کی سفارش کردی۔ پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان نے بل پر اختلافی نوٹ جمع کرایا۔
اجلاس میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان اراضی و ریونیو ریکارڈ کی منتقلی اور تصفیے میں طویل تاخیر کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ کمیٹی نے خانہ ڈگ، کھنہ کاک اور شکریال سمیت متعلقہ علاقوں کے ریکارڈ کے تصفیے میں تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو عمل تیز کرنے کی ہدایت کی۔ کمیٹی نے کہا کہ شہریوں کو درپیش مشکلات فوری دور کی جائیں، جبکہ کمپیوٹرائزڈ ریونیو ریکارڈ کا جائزہ لے کر جہاں ممکن ہو اسے اسلام آباد انتظامیہ کو فراہم کیا جائے۔
کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں چیف کمشنر یا متعلقہ اعلیٰ افسران، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو اور دیگر متعلقہ افسران کی ذاتی شرکت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔
اجلاس میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، موبائل فون کمپنیوں اور بینکنگ شعبے کے نمائندوں نے جعلی کالز، غیر قانونی سموں کے اجرا، بائیومیٹرک معلومات کے غلط استعمال اور مالی فراڈ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ کمیٹی نے شہریوں کے بائیومیٹرک ڈیٹا کے غلط استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حفاظتی اقدامات مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔
پی ٹی اے حکام نے بتایا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران تقریباً ایک کروڑ 82 لاکھ سمز بلاک کی گئی ہیں جبکہ ضابطہ کار کی خلاف ورزیوں پر موبائل کمپنیوں پر جرمانے بھی عائد کیے گئے۔ کمیٹی نے سموں کے اجرا کیلئے چہرے اور آنکھوں کی پتلیوں کی شناخت سمیت جدید تصدیقی ٹیکنالوجی استعمال کرنے، نئی سم جاری ہونے پر صارف کو فوری اطلاع دینے اور نگرانی کا نظام مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔
کمیٹی نے غیر مجاز بینک اکاؤنٹس سے رقوم نکلوانے، کرائے پر حاصل کیے گئے یا جعلی اکاؤنٹس کے استعمال اور فراڈ کی رقم بروقت منجمد اور واپس حاصل کرنے میں مشکلات کا بھی جائزہ لیا۔ متعلقہ اداروں کو سائبر سکیورٹی کے نظام کو مضبوط بنانے اور شہریوں کو مالی فراڈ سے محفوظ رکھنے کیلئے قانون سازی، ضابطہ کار اور تکنیکی اقدامات تجویز کرنے کی ہدایت کی گئی۔
کمیٹی نے غیر ملکی سموں کے غیر مجاز استعمال کے حوالے سے عوامی آگاہی بڑھانے اور سوشل میڈیا پر ان کی غیر قانونی تشہیر روکنے کیلئے مؤثر نگرانی کی ہدایت کرتے ہوئے سیکرٹری وزارت داخلہ و انسداد منشیات، چیئرمین پی ٹی اے اور پاکستان میں کام کرنے والی موبائل کمپنیوں کے سربراہان کو مشترکہ اجلاس کرکے مسائل حل کرنے اور جامع رپورٹ کمیٹی کو پیش کرنے کی ہدایت کی۔
اسلام آباد پولیس نے کمیٹی کو شہر کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، سیف سٹی منصوبے اور انسدادِ منشیات کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کمیٹی نے اسلام آباد کے سکولوں، جامعات، محلوں اور کمیونٹیز میں بالخصوص آئس اور دیگر مصنوعی منشیات کے خلاف آگاہی مہم شروع کرنے کی ہدایت کی۔ پولیس اور شہریوں کے درمیان روابط بہتر بنانے، انٹیلی جنس نظام مضبوط کرنے اور ایک ہی تھانے میں طویل عرصے سے تعینات تفتیشی افسران کی وقتاً فوقتاً تبدیلی کی بھی ہدایت کی گئی۔
کمیٹی نے پولیس بھرتی میں اسلام آباد کے مقامی کوٹے کے دعویدار امیدواروں کی سخت جانچ پڑتال کی ہدایت کرتے ہوئے سیف سٹی منصوبے کے تحت نصب کیمروں کو مکمل طور پر فعال بنانے پر زور دیا۔ کمیٹی نے اسلام آباد میں منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی اور متعلقہ تھانوں میں مقدمات درج کرنے کی ہدایت بھی کی۔ کمیٹی نے اسلام آباد میں امن و امان اور سیف سٹی منصوبے پر الگ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا۔
اجلاس میں اسلام آباد ماسٹر پلان پر بریفنگ کا معاملہ بھی زیر غور آیا تاہم چیئرمین سی ڈی اے کی عدم موجودگی کے باعث اسے مؤخر کردیا گیا۔ کمیٹی نے سڑکوں کی جاری تعمیر، ناقص نکاسی آب، مطلوبہ این او سی کے بغیر رہائشی علاقوں کی تعمیر اور ترقیاتی فنڈز کے اجرا و استعمال میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا۔ چیئرمین کمیٹی نے سی ڈی اے کو متعلقہ نقشہ جات اور رپورٹس فراہم کرنے جبکہ چیئرمین سی ڈی اے کو آئندہ اجلاس میں ذاتی طور پر شرکت کرکے اسلام آباد ماسٹر پلان، پارلیمنٹ لاجز، سڑکوں، فنڈز اور دیگر زیر التوا معاملات پر جامع بریفنگ دینے کی ہدایت کی۔





