پاکستان کا مذہبی و ثقافتی ورثہ امن، باہمی احترام اور قومی یکجہتی کے فروغ کا اہم ذریعہ ہے، نوشین افتخار
تاریخی مقامات اور عبادت گاہوں کا تحفظ ماضی کی حفاظت ہی نہیں بلکہ بقائے باہمی اور تاریخی انصاف کے عزم کا اظہار ہے، بین المذاہب امن کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد (اظہار خان نیازی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کی چیئرپرسن و رکن قومی اسمبلی سیدہ نوشین افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان کے مذہبی اور ثقافتی ورثے کا تحفظ امن، باہمی احترام اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں انٹر فیتھ کونسل فار پیس اینڈ ہارمنی پاکستان کے زیر اہتمام بین الاقوامی بین المذاہب امن کانفرنس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بین المذاہب ہم آہنگی، امن اور رواداری کے فروغ کے لیے خدمات کے اعتراف میں سیدہ نوشین افتخار کو انٹر فیتھ ہارمنی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
سیدہ نوشین افتخار نے کونسل کو بین المذاہب ہم آہنگی، مکالمے، باہمی مفاہمت اور احترام کے لیے پانچ دہائیوں پر مشتمل قابل تحسین خدمات پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مذہبی و ثقافتی تنوع اس کی قومی شناخت کا لازمی حصہ ہے، مسیحی، ہندو، سکھ، بدھ، کالاش اور دیگر برادریوں کا ورثہ پاکستان کی مشترکہ تاریخ کا اہم جزو ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاریخی مقامات اور عبادت گاہوں کا تحفظ محض ماضی کی حفاظت نہیں بلکہ وقار، بقائے باہمی اور تاریخی انصاف کے عزم کا اظہار ہے۔
چیئرپرسن قائمہ کمیٹی نے کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی کو صرف کانفرنسوں تک محدود رکھنے کے بجائے تعلیمی اداروں، ثقافتی پلیٹ فارمز، عوامی مکالمے اور روزمرہ زندگی میں فروغ دینا ہوگا۔ پارلیمان کے ذریعے قانون سازی، نگرانی اور پالیسی مکالمے کے عمل کو بروئے کار لاتے ہوئے مذہبی و ثقافتی ورثے کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا کرنا ضروری ہے۔
سیدہ نوشین افتخار نے نوجوان نسل کو پاکستان کے متنوع ورثے سے روشناس کرانے اور تعصب و نفرت کے بیانیوں کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
کانفرنس میں وفاقی وزراء، سفارت کاروں، علماء کرام، سول سوسائٹی، صحافیوں اور مختلف مذاہب کے نمائندگان نے شرکت کی۔





