خواتین پر بڑھتے تشدد پر پارلیمانی خصوصی کمیٹی کا سخت نوٹس

 

اسلام آباد پولیس میں سنگین مقدمات کی نگرانی کیلئے سیل قائم کرنے کی سفارش، خواتین پر تشدد کے مقدمات کیلئے مرکزی ڈیش بورڈ بنانے کی ہدایت

اسلام آباد (اظہار خان نیازی) خواتین اور بچیوں پر ملک بھر میں بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات پر پارلیمانی خصوصی کمیٹی برائے صنفی امور نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کو متاثرہ خواتین کو فوری انصاف کی فراہمی اور مقدمات کی شفاف و غیرجانبدارانہ تفتیش یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔

ڈاکٹر نفیسہ شاہ، ایم این اے کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں خصوصی کمیٹی برائے صنفی امور کا 27واں اجلاس ہوا، جس میں خواتین اور بچیوں پر تشدد کے بڑھتے واقعات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے خواتین اور بچیوں پر ہر قسم کے تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرین اور ان کے اہلخانہ سے اظہار یکجہتی کیا۔

کمیٹی نے متعلقہ وفاقی و صوبائی حکام پر زور دیا کہ ایسے مقدمات کی تیز، غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات اور قانونی تقاضوں کے مطابق بروقت استغاثہ یقینی بنایا جائے۔ کمیٹی نے غفلت، تاخیر، مداخلت، متاثرین کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی یا شواہد محفوظ نہ رکھنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی بھی سفارش کی۔

کمیٹی نے قرار دیا کہ صرف مقدمہ درج کرنا یا تحقیقاتی کمیٹی قائم کردینا کافی نہیں، بلکہ ہر کیس کی شکایت کے اندراج سے لے کر تفتیش، شواہد محفوظ کرنے، استغاثہ، عدالتی کارروائی اور حتمی فیصلے تک مسلسل نگرانی ہونی چاہیے۔ چیئرپرسن ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے زور دیا کہ فوجداری نظام انصاف کا بنیادی مقصد ملزمان کو سزا دلوانا ہونا چاہیے، جس کیلئے قابل اعتماد تفتیش، درست شواہد اکٹھے کرنا اور بروقت استغاثہ ضروری ہے۔

کمیٹی نے اسلام آباد پولیس میں سنگین مقدمات کا خصوصی سیل قائم کرنے کی سفارش کی، جو خواتین اور بچوں پر تشدد کے سنگین مقدمات کی نگرانی کرے اور قانونی کارروائی کے ہر مرحلے پر ادارہ جاتی رابطہ اور مسلسل پیروی یقینی بنائے۔

کمیٹی نے وزارت انسانی حقوق کے سیکرٹری کو ہدایت کی کہ چاروں صوبوں کے پولیس سربراہان اور اسلام آباد کے متعلقہ حکام کے ساتھ رابطہ کرکے خواتین پر تشدد کے مقدمات کی نگرانی کیلئے مرکزی ڈیش بورڈ تیار کیا جائے۔ ڈیش بورڈ میں مقدمات کے اندراج، تفتیش، شواہد کے تحفظ، استغاثہ، ٹرائل اور حتمی فیصلے سمیت قانونی کارروائی کے ہر مرحلے کی پیش رفت ریکارڈ کی جائے۔

کمیٹی نے خواتین پر تشدد کے مقدمات میں سزا کی شرح سے متعلق جامع رپورٹس طلب کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ کمیٹی کے مطابق ان رپورٹس سے تفتیش اور استغاثہ کے نظام میں موجود ادارہ جاتی و قانونی خامیوں کی نشاندہی، متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا جائزہ اور پارلیمانی نگرانی میں مدد ملے گی۔

اجلاس کے دوران وزارت انسانی حقوق نے کمیٹی کو قومی سطح پر نگہداشت کی معیشت سے متعلق پالیسی کی تیاری میں ہونے والی پیش رفت پر بھی بریفنگ دی۔ کمیٹی نے پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ پالیسی میں بچوں، بزرگوں، معذور افراد، کمیونٹی کی سطح پر نگہداشت اور بلا معاوضہ گھریلو نگہداشت سمیت تمام شعبوں کا واضح احاطہ کیا جائے۔

کمیٹی نے وزارت خزانہ، منصوبہ بندی کمیشن اور پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے ساتھ مؤثر رابطے، نگہداشت کی خدمات کیلئے مطلوبہ وسائل مختص کرنے اور بین الاقوامی معیار کے مطابق باقاعدہ وقت کے استعمال کے سروے کرانے پر بھی زور دیا۔

اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے صنفی بنیاد پر تشدد کے مقدمات میں سزا سے استثنیٰ کے خاتمے، مقدمات کے پورے قانونی عمل میں جوابدہی مضبوط بنانے اور پاکستان کی نگہداشت کی معیشت کیلئے جامع قومی پالیسی کی تشکیل کے عزم کا اعادہ کیا۔