پاک افریقہ تجارت بڑھانے کیلئے عملی اقدامات ناگزیر ہیں، عاطف اکرام شیخ
پاکستان افریقی ممالک کے ساتھ معاشی شراکت داری مزید وسعت دینا چاہتا ہے، حامد اصغر خان، افریقی سفرا کا تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے پر زور
اسلام آباد(نیوز رپورٹر) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام پہلی پاک افریقہ گول میز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں پاکستان اور افریقی ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، اقتصادی تعاون اور کاروباری روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کی جبکہ مراکش، زمبابوے، سوڈان، کینیا، ایتھوپیا سمیت مختلف افریقی ممالک کے سفرا، ہائی کمشنرز اور قونصل جنرلز نے شرکت کی۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکریٹری وزارت خارجہ حامد اصغر خان نے کہا کہ پاکستان افریقی ممالک کے ساتھ تجارت اور معاشی تعاون کے فروغ کو خصوصی اہمیت دے رہا ہے، افریقہ کے ساتھ اقتصادی روابط مضبوط بنانا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اہم ترجیح ہے۔ پاکستان باہمی مفاد پر مبنی معاشی شراکت داری کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے، اس سلسلے میں نجی شعبے اور کاروباری برادری کا کردار کلیدی ہے۔ پاکستانی کاروباری برادری کو افریقی منڈیوں میں دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت افریقہ کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے کاروباری برادری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی، پاک افریقہ روابط کے فروغ کیلئے سفارتی اور تجارتی سطح پر مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔ ایف پی سی سی آئی کی گول میز کانفرنس معاشی روابط کے فروغ کی اہم کاوش ہے۔
صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی افریقی ممالک کے ساتھ معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے متحرک ہے اور پاکستان و افریقہ کے تجارتی و معاشی تعلقات مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ افریقی خطہ پاکستان کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور حکومتی پالیسیاں بھی اس عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی پاکستان اور افریقہ کی کاروباری برادری کے درمیان پل کا کردار ادا کرے گی، پاکستانی مارکیٹ کو افریقی منڈیوں سے جوڑنے کیلئے بی ٹو بی اور چیمبر ٹو چیمبر روابط مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور افریقہ کے درمیان سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں جبکہ افریقہ کی ابھرتی ہوئی معیشتیں مستقبل کی عالمی معیشت میں اہم کردار ادا کریں گی۔
عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پاکستان کے زراعت، ادویہ سازی، معدنیات و کان کنی، ٹیکنالوجی، خوراک اور انفراسٹرکچر سمیت مختلف شعبوں کیلئے افریقی مارکیٹ میں وسیع کاروباری اور سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔ پاکستان اور افریقہ کو ایک دوسرے کی بڑی آبادی، وسائل اور وسیع منڈیوں سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔ افریقی خطے کے پچاس سے زائد ممالک پاکستان کیلئے اہمیت رکھتے ہیں، پاک افریقہ معاشی روابط مستحکم کرنے کیلئے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
زمبابوے کے سفیر نے کہا کہ زمبابوے پاکستان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کا خواہاں ہے، دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں، جبکہ کاروباری برادریوں کے براہ راست روابط کو مزید فروغ دینا ہوگا۔
ایتھوپیا کے سفیر عمر حسین اوبا نے کہا کہ بی ٹو بی اور چیمبر ٹو چیمبر روابط کے ذریعے پاکستان اور افریقہ کے درمیان باہمی تجارت میں نمایاں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ دونوں خطے زراعت، صنعت، معدنیات اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھا سکتے ہیں۔ ایتھوپیا پاکستانی کاروباری برادری کیلئے افریقہ میں نئے تجارتی و سرمایہ کاری مواقع فراہم کرسکتا ہے۔
سوڈان کے سفیر نے ایف پی سی سی آئی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افریقہ کے تجارتی تعلقات کے فروغ میں نجی شعبے کا کردار انتہائی اہم ہے۔ پاکستان اور سوڈان کے درمیان ٹیکسٹائل سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں، سوڈان پاکستانی سرمایہ کاروں کا خیرمقدم کرے گا۔
کینیا کے سفیر نے کہا کہ پاکستان اور افریقی ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ کاروباری برادری کی سہولت کیلئے سہولت ڈیسک قائم کیا جائے تاکہ تجارت اور کاروباری روابط کے فروغ میں آسانی پیدا ہوسکے۔
کانفرنس میں نائب صدر ایف پی سی سی آئی طارق خان جدون، چیئرمین کیپیٹل آفس کریم عزیز ملک اور کاروباری برادری کی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔ شرکا نے پاکستان اور افریقی ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری روابط بڑھانے کیلئے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ تقریب کے موقع پر ایتھوپیا کے سال نو کی مناسبت سے کیک بھی کاٹا گیا۔





