آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن شمالی پنجاب، بشمول اسلام آباد، کے صدر ابرار احمد خان نے راولپنڈی بورڈ کے جماعت نہم کے سال 2026 کے نتائج پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بورڈ کی امتحانی، مارکنگ اور اسیسمنٹ پالیسی کا فوری، جامع اور غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ دستیاب تقابلی اعداد و شمار کے مطابق راولپنڈی بورڈ کا جماعت نہم کا کامیابی کا تناسب محض 37.56 فیصد رہا، جبکہ پنجاب کے بورڈز کا مجموعی اوسط 45.17 فیصد ہے۔ یوں راولپنڈی بورڈ صوبائی اوسط سے 7.61 فیصد کم اور تقابلی جائزے میں شامل نو بورڈز میں آخری پوزیشن پر ہے۔ابرار احمد خان نے سوال اٹھایا کہ آخر راولپنڈی بورڈ کے طلبہ کو ہر سال دوسرے بورڈز کے مقابلے میں کم کامیابی کی شرح کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے؟انہوں نے کہا کہ اگر کسی ایک سال نتیجہ کم آتا تو اسے محض اتفاق قرار دیا جا سکتا تھا، لیکن اگر کم نتائج ایک مسلسل رجحان بن جائیں تو پھر صرف طلبہ اور اساتذہ کی کارکردگی کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے امتحانی نظام، پیپر سیٹنگ، مارکنگ اور اسیسمنٹ کے طریقۂ کار کا بھی غیر جانب دارانہ جائزہ لینا ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایپسما تعلیمی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں چاہتی۔ طلبہ کو بغیر اہلیت کے کامیاب کرانا بھی ناقابل قبول ہے، تاہم غیر معمولی فیل ہونے کی شرح کو محض اعلیٰ تعلیمی معیار کی علامت سمجھنا بھی درست نہیں۔انہوں نے کہا کہ”معیارِ تعلیم بلند کرنے کا راستہ زیادہ طلبہ کو فیل کرنا نہیں بلکہ بہتر تدریس، معیاری نصاب، مؤثر تربیت اور منصفانہ اسیسمنٹ ہے۔”
شمالی پنجاب کے صدر نے چیئرمین راولپنڈی بورڈ سے مطالبہ کیا کہ:جماعت نہم کے حالیہ نتائج کا فوری اور جامع آڈٹ کرایا جائےپنجاب کے دیگر بورڈز کے ساتھ راولپنڈی بورڈ کے مارکنگ معیار کا تقابلی جائزہ لیا جائے۔تمام مضامین کی Subject-wise Failure Analysis تیار کی جائے۔غیر معمولی فیل ہونے والے مضامین میں پیپر سیٹنگ، مارکنگ اور سلیبس کی مطابقت کا جائزہ لیا جائے۔مارکنگ اور ری چیکنگ کے نظام کو مزید شفاف اور یکساں بنایا جائے۔پیپر مارکنگ کے معیار کو جانچنے کے لیے آزادانہ Quality Assurance Mechanism قائم کیا جائے۔امتحانی پیٹرن کو نصاب اور مطلوبہ Learning Outcomes کے مطابق بنانے کا جائزہ لیا جائے۔اساتذہ، سکول مالکان، تعلیمی ماہرین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل مشاورتی کمیٹی تشکیل دی جائے۔گزشتہ پانچ سال کے نتائج کا بورڈ وائز اور مضمون وار تقابلی جائزہ لے کر کم کامیابی کی وجوہات سامنے لائی جائیں۔جہاں ضرورت ہو وہاں امتحانی و اسیسمنٹ پالیسی میں عملی اور فوری اصلاحات کی جائیں۔ابرار احمد خان نے کہا کہ راولپنڈی ایک بڑا تعلیمی مرکز ہے اور ہزاروں طلبہ ہر سال راولپنڈی بورڈ کے تحت امتحانات میں شریک ہوتے ہیں۔ کسی بھی امتحانی نظام میں سب سے اہم چیز طلبہ کے ساتھ انصاف اور ان کی حقیقی کارکردگی کا درست تعین ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک طالب علم کے کم نمبر یا فیل ہونے کے اثرات صرف اس کے رزلٹ کارڈ تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے آئندہ تعلیمی داخلے، والدین کے مالی اخراجات اور مستقبل کے تعلیمی مواقع پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔انہوں نے چیئرمین راولپنڈی بورڈ سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کو محض ایک نتیجے کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ اسے پورے امتحانی نظام کی بہتری کے ایک موقع کے طور پر لیا جائے۔ابرار احمد خان نے کہا کہ اے پی ایس ایم اے کسی رعایت یا معیار میں کمی کا مطالبہ نہیں کر رہی بلکہ صرف یہ چاہتی ہے کہ:”جو طالب علم جتنے نمبروں کا حق دار ہے، اسے اتنے ہی نمبر ملیں؛ نہ کم، نہ زیادہ۔”انہوں نے کہا کہ امتحانات کا مقصد طلبہ کو ناکام کرنا نہیں بلکہ ان کی تعلیمی استعداد کو منصفانہ اور شفاف انداز میں جانچنا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ چیئرمین راولپنڈی بورڈ اس اہم معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ماہرین تعلیم اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے موجودہ پالیسی کا جائزہ لیں گے اور ایسا جدید، متوازن، شفاف اور منصفانہ امتحانی نظام متعارف کروائیں گے جس سے طلبہ، والدین اور تعلیمی اداروں کا بورڈ پر اعتماد مزید مضبوط ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔





