جامشورو میں اسکول تنازع سنگین، پرنسپل کو مبینہ دھمکیاں

عدالت کے باہر ہراساں کرنے کا الزام، مسلح افراد پر اسکول سے سولر سسٹم، پنکھے اور قیمتی سامان لے جانے کا دعویٰ، بچوں کی تعلیم متاثر

جامشورو (بیورو رپورٹ) جامشورو میں اسکول کا تنازع سنگین رخ اختیار کر گیا، ماہر تعلیم اور اسکول پرنسپل بینظیر راجڑ نے بااثر افراد کی جانب سے مبینہ دھمکیوں اور ہراساں کیے جانے کا الزام عائد کیا ہے۔ بینظیر راجڑ اپنے کیس کی تیسری سماعت کے لیے عدالت پہنچیں، جہاں ان کے مطابق عدالت کے باہر تاج محمد شورو اور خمیسو شورو نے انہیں مبینہ طور پر ہراساں کیا اور دھمکیاں دیں۔ بینظیر راجڑ کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے مبینہ طور پر اسکول پر حملہ کرکے سولر سسٹم، پنکھے اور دیگر قیمتی سامان بھی لے گئے، جبکہ انہیں اور طلبہ کے والدین کو مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ پرنسپل کے مطابق دھمکیوں اور خوف کے باعث بچے اسکول آنے سے قاصر ہیں جس کے نتیجے میں تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے حکومت، رکن قومی اسمبلی ملک اسد سکندر اور رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر سکندر شورو سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں، اسکول انتظامیہ، طلبہ اور ان کے والدین کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے، مبینہ حملے اور دھمکیوں کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور بچوں کی تعلیم کا سلسلہ بحال کرایا جائے۔