بنکاک میں پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیتنے والی تائیکوانڈو کزن سسٹرز حکومتی سرپرستی کی منتظر


راولپنڈی:(سید شاہد وحید ہاشمی)لاہور سے تعلق رکھنے والی پاکستان کی باصلاحیت تائیکوانڈو کزن سسٹرز سنبل اور طیبہ اشرف نے بنکاک میں منعقدہ تین ملکی تائیکوانڈو ٹورنامنٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور گولڈ میڈلز جیت کر وطن واپس پہنچ گئیں۔قومی پرچم سربلند کرنے والی کھلاڑیوں نے حکومتی سرپرستی اور مالی معاونت نہ ملنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے باصلاحیت کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی کا مطالبہ کیا ہے۔سنبل اور ان کی کوچ طیبہ اشرف کا کہنا ہے کہ انہوں نے محدود وسائل کے باوجود متعدد ملکی و بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کرکے پاکستان کے لیے اعزازات حاصل کیے،تاہم پاکستان اسپورٹس بورڈ اور متعلقہ حکام کی جانب سے انہیں مالی معاونت یا مناسب پذیرائی نہیں مل سکی۔طیبہ اشرف نے کہا کہ بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے لیے کھلاڑیوں کو ٹکٹ، ویزا، سفری اخراجات، تربیت، قیام و طعام سمیت مختلف مد میں بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔حکومتی معاونت نہ ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی مدد آپ اور ذاتی وسائل سے یہ سلسلہ جاری رکھا اور ہر موقع پر پاکستان کی نمائندگی کو ترجیح دی۔ان کا کہنا تھا کہ کھیل کے دوران کھلاڑیوں کو انجریز اور دیگر مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم پاکستان کے لیے میڈل جیتنے کا جذبہ انہیں مشکلات سے لڑنے کا حوصلہ دیتا ہے۔گولڈ میڈل جیتنے پر خوشی ضرور ہے،لیکن اس بات کا افسوس بھی ہے کہ قومی سطح پر کامیابی کے باوجود ان کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی نہیں کی گئی۔طیبہ اشرف نے کہا کہ ان کا مقصد تائیکوانڈو میں پاکستان کے لیے مزید بین الاقوامی اعزازات حاصل کرنا ہے۔وہ مستقبل میں ورلڈ کپ سمیت دیگر عالمی مقابلوں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے گولڈ میڈل جیتنے کے لیے بھرپور محنت جاری رکھیں گی۔
کھلاڑیوں نے حکومت اور پاکستان اسپورٹس بورڈ سے مطالبہ کیا کہ باصلاحیت کھلاڑیوں کو مناسب مالی معاونت، جدید تربیتی سہولیات، کوچنگ اور بیرون ملک مقابلوں میں شرکت کے لیے ضروری وسائل فراہم کیے جائیں، تاکہ وہ مکمل تیاری کے ساتھ عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کرسکیں۔سنبل اور طیبہ اشرف نے عزم ظاہر کیا کہ اگر انہیں مطلوبہ سہولیات اور سرپرستی فراہم کی گئی تو وہ آئندہ عالمی مقابلوں میں بھی پاکستان کا پرچم سربلند کرنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گی اور عالمی تائیکوانڈو ٹائٹل پاکستان کے نام کرنے کی جدوجہد جاری رکھیں گی۔