ٹک ٹاک کی دوستی، محبت کا دعویٰ، لاہور سے دنیاپور تک سفر؛ نوجوان کا فون بند

 

لاہور سے دنیاپور پہنچنے والی نوجوان لڑکی کو پولیس نے تحویل میں لے کر والدین کے حوالے کردیا، والدین پہلے ہی لاہور پولیس کو بیٹی کے لاپتا ہونے کی اطلاع دے چکے تھے

دنیاپور (نامہ نگار) ٹک ٹاک پر ہونے والی دوستی محبت میں بدلنے کے دعوے کے بعد لاہور کی نوجوان لڑکی والدین کو بتائے بغیر سینکڑوں کلومیٹر کا سفر طے کرکے دنیاپور پہنچ گئی، تاہم دوکوٹہ چوک میں مبینہ محبوب سے ملاقات نہ ہوسکی، اطلاع ملنے پر پولیس نے لڑکی کو اپنی تحویل میں لے کر والدین سے رابطہ کیا اور قانونی کارروائی کے بعد بحفاظت ان کے حوالے کردیا۔

ذرائع کے مطابق لاہور کی رہائشی نوجوان لڑکی کی ٹک ٹاک پر دنیاپور کے ایک نوجوان سے دوستی ہوئی جو وقت گزرنے کے ساتھ مبینہ طور پر محبت میں بدل گئی، دونوں کے درمیان گفتگو اور وعدوں کا سلسلہ جاری رہا، جس کے بعد لڑکی نے والدین کو اعتماد میں لیے بغیر نوجوان سے ملاقات کا فیصلہ کیا اور لاہور سے دنیاپور پہنچ گئی۔

لڑکی دوکوٹہ چوک دنیاپور پہنچی تو وہاں اسے مبینہ طور پر ملاقات کے لیے آنے والا نوجوان موجود نہ ملا، چوک میں اکیلی لڑکی کو دیکھ کر مقامی افراد نے پولیس کو اطلاع دی، جس پر سٹی دنیاپور پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور لڑکی کو اپنی تحویل میں لے لیا۔

پولیس نے لڑکی سے معلومات حاصل کرنے کے بعد اس کے والدین سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ اپنی بیٹی کے اچانک لاپتا ہونے کے حوالے سے پہلے ہی لاہور پولیس کو اطلاع دے چکے تھے۔ دنیاپور پولیس نے والدین کو طلب کیا اور ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد لڑکی کو بحفاظت ان کے حوالے کردیا۔

واقعے کا دلچسپ پہلو یہ سامنے آیا کہ جس نوجوان سے ملاقات کے لیے لڑکی لاہور سے دنیاپور پہنچی تھی، لڑکی کے دنیاپور پہنچنے کے بعد مبینہ طور پر نوجوان نے اپنا موبائل فون ہی بند کردیا، جس کے باعث ملاقات بھی نہ ہوسکی۔

ڈی پی او لودھراں بینش فاطمہ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے نوجوان لڑکی کو بحفاظت والدین تک پہنچانے پر لیڈی سب انسپکٹر حرا ذوالفقار کو شاباش دی اور ان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انعام سے بھی نوازا۔

ڈی پی او لودھراں نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں سے باخبر رہیں، انہیں سوشل میڈیا کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق آگاہ کریں اور کسی بھی مشکوک آن لائن دوستی یا رابطے کی صورت میں بچوں سے دوستانہ انداز میں بات چیت کرکے انہیں ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھیں۔