راولپنڈی کی دو بہنوں کا ٹیکنالوجی کی دنیا میں منفرد سفر،مصنوعی ذہانت اور خلائی تحقیق میں نمایاں دلچسپی
راولپنڈی:(سید شاہد وحید ہاشمی)کم عمری میں دو کتابوں کی مصنفہ بننے والی راولپنڈی کی دو بہنوں نے مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی اور خلائی تحقیق کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرتے ہوئے مختلف نوعیت کی ایپس تیار کی ہیں، جبکہ خواتین کے تحفظ کے لیے بھی ایک نئی ایپ پر کام جاری ہے۔دونوں بہنوں میں سے ایک نے محض 23 سال کی عمر میں دو کتابیں تحریر کیں اور خلاء و جدید ٹیکنالوجی کے موضوعات پر تحقیق اور مطالعے کا سلسلہ جاری رکھا۔ٹیکنالوجی کے میدان میں ان کی تیار کردہ ایپس میں بعض ایسے منفرد تصورات شامل ہیں جو عام صارفین کے لیے دلچسپی کا باعث بن سکتے ہیں۔ان میں ایک ایپ ایسا تصور پیش کرتی ہے جس کے ذریعے صارف یہ جاننے کی کوشش کر سکتا ہے کہ دوسرا شخص اس کے بارے میں کیا سوچتا ہے یا اس کے لیے اس کے جذبات کیا ہیں۔ بالخصوص میاں بیوی یا باہمی تعلق رکھنے والے افراد کے لیے یہ تصور دلچسپ ہو سکتا ہے،تاہم اس نوعیت کی ٹیکنالوجی کے نتائج کو حتمی حقیقت سمجھنے کے بجائے اسے ایک تکنیکی یا تجرباتی تصور کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔
دوسری ایپ کا تصور اس سے بھی زیادہ منفرد ہے،جس میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے کسی وفات پا جانے والے عزیز کی دستیاب آواز، یادوں اور ڈیجیٹل معلومات کی بنیاد پر ایک ورچوئل تجربہ تشکیل دینے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔اس ٹیکنالوجی کے ذریعے صارف کو اپنے مرحوم عزیز کی یادوں سے بات چیت جیسا تجربہ فراہم کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔تاہم ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کی اس نوعیت کی ایپلی کیشنز کے ساتھ رازداری،رضامندی،ڈیجیٹل شناخت،جذباتی وابستگی اور اخلاقی حدود جیسے اہم سوالات بھی وابستہ ہیں،جنہیں ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔دونوں بہنیں خواتین کے تحفظ کے لیے ایک نئی ایپ کی تیاری پر بھی کام کر رہی ہیں،جسے مستقبل قریب میں متعارف کرانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔اس ایپ کا مقصد خواتین کو ممکنہ خطرات سے نمٹنے اور ضرورت کے وقت مدد تک رسائی فراہم کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانا ہے۔کم عمری میں علمی و تحقیقی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کام کرنے والی ان نوجوان بہنوں کا سفر اس امر کی عکاسی کرتا ہے۔





