*اسلام آباد میں ڈینگی کی روک تھام اور شہریوں کی قیمتی جانوں کے تحفظ کے لیے سی ڈی اے کے جامع اقدامات جاری*
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد بھر میں ڈینگی کی روک تھام اور ویکٹر کنٹرول کے لیے جامع آپریشنز مزید تیز کر دیے ہیں، تاکہ ڈینگی کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور شہریوں کی قیمتی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے 9 ستمبر 2026ء، وبائی ہفتہ نمبر 37 تک اسلام آباد میں ڈینگی کی صورتحال قابو میں ہے۔
شہری اسلام آباد میں تقریباً 300 فیلڈ اہلکار ڈینگی مچھر کی افزائش کے خاتمے اور ویکٹر کنٹرول کی بھرپور کارروائیوں میں مصروف عمل ہیں، جبکہ دیہی علاقوں میں 600 سے زائد اہلکار خدمات انجام دے رہے ہیں۔ فیلڈ ٹیمیں بڑے پیمانے پر سرویلنس، افزائشی مقامات کی نشاندہی اور ان کے فوری خاتمے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔
شہری اسلام آباد میں تقریباً 12 لاکھ 40 ہزار 440 سرویلنس سرگرمیاں انجام دی گئی ہیں، جبکہ 5 لاکھ 82 ہزار 680 گھروں اور 40 لاکھ 6 ہزار 378 اندرونی کنٹینرز کی جانچ کی گئی۔ اندرونی کنٹینرز سے مجموعی طور پر 1 لاکھ 42 ہزار 379 لاروا تلف کیے گئے، جبکہ میونسپل حدود میں 40 ہزار 54 افزائشی مقامات کی نشاندہی کی گئی۔
مجموعی طور پر شہری علاقوں میں 1 لاکھ 42 ہزار 379 جبکہ دیہی علاقوں میں 66 ہزار 758 لاروا کی نشاندہی اور تلفی کی گئی۔ رہائشی علاقوں، تجارتی مقامات اور پہلے سے نشاندہی شدہ حساس مقامات پر ڈینگی کے افزائشی مقامات کو مکینیکل طریقوں اور مناسب لاروا کنٹرول اقدامات کے ذریعے ختم کیا جا رہا ہے۔
سی ڈی اے کی ٹیمیں ہائی رسک علاقوں کی مسلسل نگرانی اور سرویلنس جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ جمع شدہ پانی، رہائشی علاقوں، تجارتی مقامات، خالی پلاٹوں اور مچھروں کی افزائش کے دیگر ممکنہ مقامات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
سی ڈی اے نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ فیلڈ ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور اپنے گھروں، چھتوں، باغیچوں، گملوں، مختلف برتنوں اور اردگرد کے علاقوں میں پانی جمع نہ ہونے دیں۔ ڈینگی کی مؤثر اور مستقل روک تھام کے لیے شہریوں کا تعاون انتہائی اہم ہے۔
سی ڈی اے ہائی رسک سیزن کے دوران بھرپور سرویلنس اور حفاظتی کارروائیاں مسلسل جاری رکھے گا، تاکہ ڈینگی کی بروقت نشاندہی، افزائشی مقامات کا فوری خاتمہ اور شہریوں کا زیادہ سے زیادہ تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
شہریوں نے اسلام آباد میں ڈینگی کی روک تھام اور ویکٹر کنٹرول کے لیے سی ڈی اے کی فعال اور مسلسل کوششوں کو سراہا ہے، بالخصوص فیلڈ سرویلنس، ڈینگی کے افزائشی مقامات کی نشاندہی اور خاتمے، اور شہریوں کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے حفاظتی اقدامات کو قابلِ تحسین قرار دیا ہے۔
*“پھیلاؤ سے پہلے احتیاط، وبا سے پہلے بروقت کارروائی — قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔”*





