برآمدات سست روی کا شکار، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی تجارت کا برآمدات میں اضافے اور اصلاحات پر زور

 

گزشتہ سال 32.1 ارب ڈالر کے مقابلے میں برآمدات 30.8 ارب ڈالر تک گرنے پر تشویش؛ چاول کی برآمدات 32 کروڑ 10 لاکھ سے بڑھ کر 39 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہوگئیں، مسابقتی صلاحیت بڑھانے کیلئے ہنگامی اقدامات کی سفارش

اسلام آباد (اظہار خان نیازی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین محمد جاوید حنیف خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوا، جس میں ملکی برآمدات کے فروغ، تجارتی اصلاحات، مسابقتی صلاحیت میں اضافے اور برآمدی شعبے کو درپیش رکاوٹوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے زور دیا کہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے طے کی گئی تجارتی پالیسیوں کو محض کاغذی کارروائی تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اقدامات میں تبدیل کرکے بلاوجہ تاخیر کے بغیر نافذ کیا جائے۔

کمیٹی نے محمد فاروق ستار کی جانب سے پیش کردہ تجارتی تنظیموں کے تیسرے ترمیمی بل پر غور کیا۔ ارکان نے مجوزہ ترامیم کی اصولی حمایت کی تاہم حتمی فیصلے سے قبل معاملہ قانونی رائے اور ممکنہ قانونی اثرات کا جائزہ لینے کیلئے وزارت تجارت اور وزارت قانون و انصاف کو بھجوا دیا۔

اجلاس میں چاول کے شعبے کیلئے سبسڈی سے متعلق سابقہ سفارشات پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے چاول کی برآمدات میں اضافے کو حوصلہ افزا قرار دیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 30 اگست 2026ء تک چاول کی برآمدات 32 کروڑ 10 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 39 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہوگئی ہیں۔ کمیٹی نے کہا کہ کسی ایک شعبے کی بہتر کارکردگی کو وسیع اور پائیدار برآمدی حکمت عملی میں تبدیل کرنا ہوگا، جس کیلئے تحقیق، بہتر بیجوں کی اقسام، ویلیو ایڈیشن اور عالمی منڈی میں مسابقتی صلاحیت بڑھانے پر توجہ دینا ضروری ہے۔

کمیٹی نے ملکی مجموعی برآمدات میں کمی پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ارکان نے بتایا کہ گزشتہ سال 32.1 ارب ڈالر کے مقابلے میں رواں سال برآمدات 30.8 ارب ڈالر تک گر گئی ہیں۔ کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ علاقائی ممالک کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی کے باعث عالمی منڈی میں بڑھتے ہوئے مسابقتی دباؤ کے مقابلے میں پاکستان کا مارکیٹ شیئر برقرار رکھنے کیلئے مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے جا رہے۔

کمیٹی نے تجارتی فروغ اور سہولت کاری کے موجودہ نظام کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔ ارکان نے کہا کہ پاکستان کو صرف تجارتی سہولت کاری پر بحث کرنے کے بجائے ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں ملکی کاروبار اور صنعتیں عالمی منڈی میں مؤثر طور پر مقابلہ کرسکیں۔ اجلاس میں ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی اور تجارت میں سہولت کاری کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔

شوگر کی درآمد اور بعد ازاں اس کی تلفی یا تصفیے کے معاملے پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔ کمیٹی نے شوگر درآمد کرنے کی پالیسی، اس کے مالی اثرات اور غذائی تحفظ پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے مزید وضاحت طلب کی۔

کمیٹی نے قرار دیا کہ برآمدات میں اضافے کیلئے معیار، منظوری، قیمت، مقدار اور صنعتی مسابقت سمیت تمام عوامل پر بیک وقت توجہ دینا ہوگی۔ برآمدی صنعتوں کو درپیش رکاوٹیں دور کرنے کیلئے متعلقہ وزارتوں اور وفاقی بورڈ آف ریونیو کو ایک ساتھ بٹھانے کی تجویز بھی دی گئی۔

قائمہ کمیٹی نے صنعتی ترقی، ویلیو ایڈیشن اور برآمدی مصنوعات میں تنوع کیلئے مؤثر پالیسی رہنما اصول مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ زیادہ برآمدی اور روزگار کی صلاحیت رکھنے والی چند اعلیٰ استعداد کی حامل مصنوعات اور شعبوں کی نشاندہی کرکے ان کیلئے خصوصی اور مرکوز پالیسی اقدامات کیے جائیں۔