راولپنڈی(سٹی رپورٹر)
قومی صدر ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان سعدیہ راشد کے تجویز کردہ موضوع ”فلم، تھیٹر اور ڈرامے: معاشرے کی اصلاح کے مؤثر ذرائع“ کے تحت ہونے والے ہمدرد مرکز راولپنڈی میں ہمدرد شوریٰ کے ماہانہ اجلاس کی صدارت اسپیکر امتیاز حیدر نے کی جبکہ مہمان خصوصی سینئر ڈائریکٹر،پروڈیوسر اور ڈرامہ نگار عاصمہ اسماعیل بٹ تھیں اجلاس میں سعدیہ راشد نے اپنے پیغام میں کہا کہ فلم،تھیٹر اور ڈرامے معاشرے کی سوچ اقدار اور کردار سازی پر گہرے اثرات مرّتب کرتے ہیں ماضی میں پاکستانی ڈرامے اور فلمیں ہماری تہذیب،خاندانی روایات اور سماجی مسائل کی بہترین عکاسی کرتی تھیں لیکن آج کی تخلیقات میں غیر ضروری بے باکی، سطحیت اور مغربی تقلید بڑھتی جا رہی ہے جو ہماری ثقافتی اور دینی اقدار کے منافی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ تمثیلی ابلاغ کو قومی تعمیر، اخلاقی تربیت اور مثبت سماجی تبدیلی کے لیے استعمال کیا جائے مہمان خصوصی عاصمہ اسماعیل بٹ اور اسپیکر ہمدرد شوریٰ امتیار حیدر نے کہا کہ ایک معیاری فلم،بامقصد ڈرامہ اور مؤثر سٹیج پرفارمنس لاکھوں افراد کی سوچ بدل سکتی ہے ہمدرد کے بانی شہید حکیم محمد سعیدؒ نوجوانوں کی اخلاقی اور فکری تربیت کو قومی ترقی کی بنیاد قرار دیتے تھے ان کے نزدیک مضبوط کردار ہی مضبوط قوم کی اساس ہے فلم، تھیٹر اور ڈرامہ قوم کی کردار سازی کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں فلم اور ڈرامہ سچائی،دیانت،انصاف،برداشت،والدین کے احترام،خواتین کے وقار،تعلیم،خدمت خلق،حب الوطنی اور قومی یکجہتی جیسے موضوعات کو فنی مہارت کے ساتھ پیش کرتے ہیں تو وہ صرف تفریح نہیں بلکہ کردار سازی اور سماجی شعور کو بھی فروغ دیتے ہیں فلم، تھیٹر اور ڈراموں کو علم،شعور،اخلاق اور خیر کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ ہی ذرائع ابلاغ قوموں کی تعمیر کرتے ہیں ہمدرد شوریٰ کے دیگر اراکین نے بھی اظہار خیال کیا ان میں پروفیسر نیاز محمد عرفان،زاہد علی قریشی،ڈاکٹر ریاض احمد، حکیم بشیر بھیروی،طارق شاہین،سلمیٰ قاصر،نعیم اکرم قریشی،اسلام الدین قریشی،تنویرنصرت، انجینئر مظفراقبال، پروفیسر اقبال ناصری محمد ایوب ایڈووکیٹ شامل ہیں اجلاس کے اختتام پر مہمان ِ خصوصی کو زونل ہیڈ ہمدرد فاؤنڈیشن راولپنڈی امان اللہ نیازی نے اعزازی شیلڈ ”عافیت سے جیتے رہو“ پیش کی۔





