گھریلو خاتون کو خُرپے کے وار سے قتل کرنے والے ملزم کو سزائے موت، شریک ملزم کو عمر قید

گھریلو خاتون کو خُرپے کے وار سے قتل کرنے والے ملزم کو سزائے موت، شریک ملزم کو عمر قید

راولپنڈی(کورٹ رپورٹر) ایڈیشنل سیشن جج افشاں اعجاز صوفی نے گھریلو خاتون کو خُرپے کے وار سے قتل کرنے کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم محمد عارف کو سزائے موت اور 10 لاکھ روپے جرمانے، جبکہ شریک ملزم محمد عثمان کو عمر قید کی سزا سنا دی۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق 24 جون 2025 کو مدعی محمد حمزہ نے تھانہ چکلالہ میں مقدمہ درج کرایا تھا کہ اس کی والدہ کو گھر میں کام کرنے والے مالی محمد عارف اور اس کے ساتھ آنے والے شخص نے خُرپے کے وار کرکے قتل کر دیا اور موقع سے فرار ہوگئے۔

مقدمے کی پیروی قاضی حفیظ الرحمان ایڈووکیٹ نے کی۔ دورانِ سماعت پراسیکیوشن کی جانب سے عدالت میں تمام گواہان پیش کیے گئے، جنہوں نے ملزمان کے خلاف شہادتیں قلمبند کرائیں۔ گواہان نے نامعلوم ملزم کی شناخت بھی کی۔

قاضی حفیظ الرحمان ایڈووکیٹ نے اپنے دلائل میں مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان محمد عارف اور محمد عثمان نے باہم مشورے سے گھر میں موجود خُرپے کے ذریعے بزرگ خاتون کو قتل کیا۔ انہوں نے عدالت کے روبرو مختلف عدالتی نظائر بھی پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد اور گواہان کی شہادتیں ملزمان کے خلاف جرم ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔

عدالت نے فریقین کے دلائل اور ریکارڈ پر موجود شواہد کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ ملزمان نے بزرگ خاتون کو بے رحمی سے قتل کرکے سنگین جرم کا ارتکاب کیا۔

فیصلے کے مطابق عدالت نے مرکزی ملزم محمد عارف کو سزائے موت اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی، جبکہ جرمانے کی رقم مقتولہ کے ورثاء کو ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ شریک ملزم محمد عثمان کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔