داؤدخیل(ضیاءنیازی سے)
ٹریکٹر ٹرالیوں کی اوور لوڈنگ سڑکوں پر گشت کرتی موت کے پروانے جو قیمتی جانوں کو نگل رہے ہیں اور انتظامیہ خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے ونجاری میں لکڑیوں کی اوور لوڈ ٹرالیاں عوام کے لیے موت باٹنے لگی ہیں نہ پیچھے کوئی لائٹ ہوتی ہے نہ ریفلیکٹر لگا ہوتا ہے جس کی وجہ سے کئی موٹر سائیکل ٹکرا کر زندگی کی موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں ونجاری شہر میں گزشتہ رات پیش آنے والا المناک حادثہ، جس میں لکڑیوں سے اوور لوڈ ٹریکٹر ٹرالے کی زد میں آ کر مقامی رہائشی طارق باہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ معروف شخصیت علامہ حافظ قاری جبار شدید زخمی ہو گئے،
یہ محض ایک اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ غفلت اور قانون شکنی کا وہ نتیجہ ہے جو روزانہ کئی گھروں کے چراغ گل کر رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار مزدور لیڈر زاہد اقبال ملاخیل نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا انہوں نے کہا کہ معدنیات اور لکڑیوں سے حد سے زیادہ لدھی ہوئی یہ ٹریکٹر ٹرالیاں درحقیقت سڑکوں پر چلتی پھرتی موت ہیں۔ حادثات کی چند بنیادی اور انتہائی تشویشناک وجوہات یہ ہیں
لکڑیاں اور دیگر مواد ٹرالی کے سائز سے کئی فٹ باہر پھیلا ہوتا ہے، جس کا رات کے اندھیرے میں سامنے سے آنے والے موٹر سائیکل سواروں یا گاڑیوں کو اندازہ نہیں ہو پاتا اور وہ ان سے ٹکرا جاتے ہیں۔
اکثر ٹرالیوں کے پیچھے نادیدہ سامان پر نہ تو کوئی ہائی بیم لائٹ ہوتی ہے اور نہ ہی خطرناک حد کو ظاہر کرنے والے ریفلیکٹرز یا اشارے لگائے جاتے ہیں۔ان گاڑیوں کو چلانے والے زیادہ تر ڈرائیورز کے پاس نہ تو ڈرائیونگ لائسنس ہوتا ہے اور نہ ہی وہ ٹریفک کے بنیادی اصول و ضوابط، اوور ٹیکنگ، سپیڈ لمٹ اور لائٹس کے استعمال (ڈم و فل) سے واقف ہوتے ہیں جبکہ اکثر اوقات تو چھوٹے بچے گاڑی چلاتے نظر آتے ہیں
ماضی میں بھی اس بے ہنگم اوور لوڈنگ اور بے ترتیبی کی وجہ سے کئی معصوم بچے، جوان اور روزی کمانے والے افراد اپنی قیمتی جانیں گنوا چکے ہیں۔انہوں نے کہا مقامی تھانہ، ٹریفک پولیس اور متعلقہ حکام گہری نیند سے جاگیں۔معدنیات اور لکڑیوں کی غیر قانونی اور خطرناک اوور لوڈنگ کرنے والی گاڑیوں کے خلاف بلا امتیاز سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ بغیر لائسنس ڈرائیورز اورقانوں اور ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کو بھاری جرمانے اور ٹرالیاں ضبط کرنے کی سزا دی جائے تاکہ مزید قیمتی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے





