مقامی آبادیوں کی شمولیت، غیر قانونی شکار کی روک تھام اور سائنسی بنیادوں پر افزائشِ نسل پر زور
اسلام آباد (اظہارخان نیازی) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے جنگلی حیات کے تحفظ، قدرتی مساکن کی بقا اور قدرتی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کو پاکستان کے قدرتی ورثے اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کیلئے ناگزیر قرار دیا ہے۔
اسلام آباد میں سفاری کلب انٹرنیشنل پاکستان کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے مقامی آبادیوں کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے، جبکہ غیر قانونی شکار کی روک تھام اور سائنسی بنیادوں پر افزائشِ نسل کے پروگراموں کو فروغ دینا ہوگا۔
سردار ایاز صادق نے گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، سیلابوں اور ماحولیاتی انحطاط پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گلیشیئرز، پہاڑوں، جنگلات اور قدرتی مساکن کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ 2015ء میں دنیا کی پہلی گرین پارلیمنٹ بنی جبکہ پارلیمنٹ ہاؤس میں بارش کے پانی کو محفوظ اور دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کیلئے واٹر ہارویسٹنگ منصوبہ جاری ہے۔
اسپیکر نے کہا کہ مارخور پاکستان کے قیمتی قدرتی ورثے کی علامت ہے، اس سمیت تمام جنگلی حیات کا تحفظ ماحولیاتی توازن اور پاکستان کے عالمی تشخص کیلئے ضروری ہے۔ انہوں نے سفاری کلب انٹرنیشنل کی جنگلی حیات اور ماحول کے تحفظ کیلئے خدمات کو سراہا۔





