کہوٹہ (راجہ عثمان علی) تحصیل کہوٹہ میں نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے عوامی سطح پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے احتجاجی پروگرام اور پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں تحصیل بھر سے سیاسی و سماجی شخصیات، عوامی نمائندگان، بلدیاتی نمائندوں، وکلاء، صحافیوں، معتبرین اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔اس موقع پر سردار تیمور اسلم ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کہوٹہ اور کوہسار کے عوام کے ساتھ کسی بھی قسم کا امتیازی سلوک قابلِ قبول نہیں۔ عوام اپنے بنیادی اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قانونی اور جمہوری فورم پر آواز بلند کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کہوٹہ، مری اور کوٹلی ستیاں نیشنل پارک ڈکلیئرڈ ایریاز ہیں، اگر مری اور کوٹلی ستیاں میں یونین کونسلز کی آبادی چھ سے نو ہزار کے درمیان رکھی جا سکتی ہے تو کہوٹہ کو اس معیار سے محروم رکھنے کی وجوہات بھی واضح کی جانی چاہئیں۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ نئی حلقہ بندیوں میں آبادی کے تناسب اور انتظامی اصولوں کو مدنظر رکھا جائے۔شرکاء نے کہا کہ کہوٹہ کی یونین کونسلز کی آبادی کو مناسب تناسب کے مطابق ترتیب دے کر نئی حلقہ بندیوں پر نظرثانی کی جائے تاکہ کسی بھی علاقے کے عوام کو ان کے جائز حقِ نمائندگی سے محروم نہ ہونا پڑے۔مقررین کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ کسی سیاسی جماعت، برادری یا گروہ کا نہیں بلکہ کہوٹہ کے اجتماعی حقوق اور عوامی مفاد کا مسئلہ ہے۔ تمام علاقوں اور برادریوں کے لوگوں کو علاقائی تعصب اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر متحد ہونا ہوگا۔شرکاء نے اعلان کیا کہ مطالبات کی منظوری تک قانونی اور آئینی جدوجہد جاری رکھی جائے گی، جبکہ نئی حلقہ بندیوں کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے سمیت متعلقہ فورمز پر بھی آواز اٹھائی جائے گی۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ کہوٹہ کو نیشنل پارک ڈکلیئرڈ ایریا کی حیثیت کے پیش نظر دیگر کوہساری علاقوں کی طرح مناسب حقوق، سہولیات اور انتظامی ریلیف فراہم کیا جائے۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کہوٹہ کے حقوق کے لیے پرامن، قانونی اور جمہوری جدوجہد ہر سطح پر جاری رکھی جائے گی اور عوام کے جائز مطالبات تسلیم ہونے تک پیچھے نہیں ہٹا جائے گا۔





