اسلام آباد(نیوز رپورٹر)
آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن نے پنجاب کے نویں جماعت کے سالانہ امتحانات 2026ء کے نتائج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے تمام 9 تعلیمی بورڈز کے نتائج تعلیمی معیار، امتحانی نظام اور طلبہ کی بنیادی تعلیمی استعداد میں بہتری کے لیے فوری اقدامات کے متقاضی ہیں۔
ایسوسی ایشن کے مطابق 2 ستمبر کو جاری ہونے والے نتائج میں مجموعی کامیابی کی شرح حوصلہ افزا نہیں رہی، جبکہ متعدد بورڈز میں نجی و الحاق شدہ اداروں کے طلبہ نے سرکاری اداروں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھائی۔مرکزی صدر ڈاکٹر ابرار حسین ملک نے کہا کہ راولپنڈی بورڈ میں سرکاری اداروں کی کامیابی کی شرح 30.82 فیصد جبکہ نجی الحاق شدہ اداروں کی 60.41 فیصد رہی۔ گوجرانوالہ بورڈ میں سرکاری اداروں کی شرح 39.59 فیصد کے مقابلے میں نجی و غیر سرکاری اداروں کی کامیابی کی شرح 69.71 فیصد رہی۔ انہوں نے کہا کہ نتائج کا جامع اور غیر جانب دارانہ تقابلی جائزہ لے کر تعلیمی کمزوریوں کی نشاندہی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ نجی تعلیمی ادارے محدود وسائل کے باوجود لاکھوں بچوں کو تعلیم فراہم کر رہے ہیں، حکومت کو پالیسی سازی میں نجی شعبے کی خدمات، تجربات اور مسائل کو مدنظر رکھنا چاہیے۔تعلیمی معیار، اساتذہ کی تربیت، جدید تدریسی طریقوں اور طلبہ کی استعداد بہتر بنانے کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی۔اس موقع پر سیکرٹری جنرل محمد اشرف ہراج، نائب صدر جاوید اقبال، راجہ پیٹرن چیف پنجاب قاضی ظہور الحق، مرکزی ایگزیکٹو کونسل کے رکن انتخاب حسین، ملک دین محمد اعوان، اسرار شاہ بخاری، جنرل سیکرٹری پنجاب ساجد الیاس چودھری، صدر راولپنڈی ڈویژن عرفان مظفر کیانی، ضلعی صدر راولپنڈی عبدالحفیظ ملک، ضلعی صدر چکوال صفدر ملک، ماہر تعلیم و ضلعی صدر اٹک طاہر خان دورانی، محمد ابراہیم، سردار گل زبیر خان، چوہدری ارشد محمود، میانوالی سے اصغر خان، جہلم سے پروفیسر خورشید احمد، گجرات سے حاجی ذکاءاللہ کھٹانہ، فیصل آباد سے طلحہ محمود سندھو، سرگودھا سے نعیم اعوان، جھنگ سے خالد چدھڑ، ملتان سے سید راشد حسنین، ساہیوال سے افضل ساہی، قصور سے مخدوم خالد محمود، ٹوبہ ٹیک سنگھ سے سہیل انجم گوندل، منڈی بہاؤالدین سے خالد محمود اور بہاولپور سے چودھری جہاندار سمیت پنجاب بھر کے عہدیداران نے بھی نتائج پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔رہنماؤں نے کہا کہ تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے حکومت، اساتذہ، والدین اور نجی تعلیمی اداروں کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی، جبکہ کم نتائج والے اضلاع اور اداروں میں خصوصی اصلاحاتی پروگرام شروع کیے جائیں۔انہوں نے کامیاب طلبہ، والدین اور اساتذہ کو مبارکباد دیتے ہوئے ناکام طلبہ کی حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ ایک امتحان کسی طالب علم کے مستقبل کا حتمی فیصلہ نہیں کرتا۔ عہدیداران نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نجی تعلیمی اداروں کو تعلیمی پالیسی سازی میں مناسب نمائندگی دی جائے تاکہ ان کے تجربات اور خدمات سے مؤثر استفادہ کیا جا سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔





